عوامی زندگی کے تحفظ سے زیادہ جگن کو آمدنی کی فکر

   

Ferty9 Clinic

شراب کی فروخت کی اجازت پرتنقید، چندرا بابو نائیڈو کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/5مئی، ( سیاست نیوز) صدرقومی تلگودیشم پارٹی این چندرا بابو نائیڈو نے آندھرا پردیش میں شراب کی فروخت کی اجازت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جبکہ عوام کورونا وائرس سے اپنی زندگی بچانے کی فکر میں ہیں حکومت شراب کی فروخت کے ذریعہ خزانہ کو بھرنا چاہتی ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ حکومت نے من مانی طریقہ سے شراب کی دکانات کو کھول دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو بھی اعتراض کرے اس پر جوابی حملہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بچوں کو تعلیم دینے والے ٹیچرس کو شراب کی دکانات کے پاس سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کیلئے متعین کرنا کہاں تک درست ہے۔ اساتذہ کے مقام کے برخلاف انہیں اس کام پر مامور کیا گیا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ شراب کی فروخت کے آغاز سے تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ خواتین نشہ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شراب کی دکانات کے روبرو احتجاج کررہی ہیں۔ انہوں نے شراب کی فروخت کے آغاز کو عجلت میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا اور کہا کہ جگن موہن ریڈی حکومت عوام کی زندگی سے کھلواڑ کررہی ہے۔ حکومت کے رویہ کے نتیجہ میں کسان خودکشی پر مجبور ہیں۔ دھان کی خریدی میں حکومت ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ہند کی کسی بھی ریاست نے شراب کی فروخت کا آغاز نہیں کیا لیکن آندھرا پردیش میں دکانات کو کھول دیا گیا ہے۔ انہوں نے شراب کی دکانات پر قطار بنانے اور سماجی فاصلہ کی پابندی کیلئے پولیس اور اساتذہ کو مامور کرنے پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش میں 5 ریڈ زونس، 7 آرینج اور ایک گرین زون ہے اس کے باوجود جگن موہن ریڈی حکومت نے عوامی رائے کے برخلاف شراب کی دکانات کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔