عوامی شعبے کے بینکوں کو بند کرنے مرکز کی سازش

   

کارپوریٹ شعبہ کی حوصلہ افزائی، خازن پردیش کانگریس نارائن ریڈی کا الزام
حیدرآباد۔24 جنوری (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کمیٹی کے خازن جی نارائن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت کارپوریٹ شعبے کو چھوٹے ڈپازٹرس کی سیونگ تک چور راستے سے رسائی کی راہ ہموار کررہی ہے۔ فینانشیل سیکٹر ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن بل کے ذریعہ بینکنگ شعبے میں خانگی اداروں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ جی نارائن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت عوامی شعبے کے بینکوں کو خانگیانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اسی تسلسل میں نیا بل متعارف کیا جارہا ہے۔ مذکورہ بل کے ذریعہ چند کارپوریٹ اداروں کو فائدہ ہوگا اور وہ عام آدمی کے محنت کی کمائی تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی شعبے کے بینکوں میں تقریباً 130 لاکھ کروڑ کے ڈپازٹ ہیں جن میں 80 لاکھ کروڑ کی رقم موجود ہے۔ 68 فیصد ڈپازٹس سینئر سٹیزنس کے ہیں۔ نئے ایف ایس ڈی آر کے ذریعہ نیا ریزولیشن کارپوریشن قائم کیا جاسکتا ہے تاکہ بینکوں اور ریزرو بینک آف انڈیا کی نگرانی کی جاسکے۔ نئے قانون سے بینکوں پر ریزرو بینک آف انڈیا کے اختیارات ختم ہوسکتے ہیں۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ ریزولیشن کارپوریشن کنٹراکٹ ڈپازیٹرس کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ادارے کو چند منتخب طاقتور کارپوریٹ اداروں کے قرضہ جات معاف کرنے کا اختیار رہے گا۔ نارائن ریڈی نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے 2017ء میں فینانشیل ریزولیشن اینڈ ڈپازٹ انشورنس بل متعارف کیا تھا جسے بعد میں تنازعہ کے سبب واپس لے لیا گیا۔ اس بل کو چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ متعارف کیا جارہا ہے جو پرانے بل سے زیادہ نقصاندہ ہے۔