نئی دہلی: آزادی اظہار کے تعلق سے آئینی بنچ نے ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی یا مرکزی حکومت کے وزراء، ارکان پارلیمنٹ/ایم ایل ایز اور اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کے اظہار رائے اور تقریر کی آزادی پر کوئی اضافی پابندی نہیں لگائی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 19 میں پہلے سے ہی ایک جامع شق موجود ہے۔ فوجداری مقدمات میں حکومت یا اس کے امور سے متعلق وزیر کے بیان کو حکومت کا بیان نہیں سمجھا جا سکتا۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ شہریوں کے بنیادی حقوق کا مثبت طور پر تحفظ کرے۔ چاہے خلاف ورزی کسی غیر ریاستی اداکار کی طرف سے کی گئی ہو یہ فیصلہ جسٹس ایس عبدالنذیر، جسٹس بھوشن آر گوائی، جسٹس اے ایس بوپنا، جسٹس وی راما سبرامنیم اور جسٹس بی وی ناگرتنا کی آئینی بنچ نے سنایا ہے۔ جسٹس راما سبرامنیم نے اکثریت کا یہ فیصلہ سنایا۔ تاہم بنچ میں شامل جسٹس بی وی ناگارتنا نے اپنا الگ فیصلہ سنایا۔ جسٹس ناگارتنا نے واضح کیا کہ آرٹیکل 19(2) میں دی گئی معقول پابندیوں کے علاوہ عوامی نمائندوں پر اضافی پابندیاں نہیں لگائی جا سکتیں۔ وزیر کے بیان کو حکومت کا بیان ماننا چاہیے یا نہیں اس پر ان کا الگ نظریہ تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وزرا ذاتی اور سرکاری حیثیت میں بیان دے سکتے ہیں۔ اگر وزیر ذاتی حیثیت میں بیان دے رہا ہے تو اسے ان کا ذاتی بیان سمجھا جائے گا۔ لیکن اگر وہ حکومت کے کام سے متعلق کوئی بیان دے رہا ہے تو اس کے بیان کو حکومت کا اجتماعی بیان سمجھا جا سکتا ہے۔