اپنی مدد آپ کے نظریہ کا غیر معمولی فروغ، ناموں کو مخفی رکھتے ہوئے کارِخیر میں مدد کے اقدامات
حیدرآباد۔23اپریل(سیاست نیوز) شہرحیدرآباد کے عوام اور تاجرین نے فلاحی خدمات کے معاملہ میں سیاسی جماعتوں اور سرکردہ اداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور اپنی مدد آپ کے نظریہ کو زبردست فروغ حاصل ہورہا ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں موجود سرکردہ فلاحی اداروں کے علاوہ سیاسی جماعتو ںکی جانب سے انجام دی جانے والی خدمات سے زیادہ شہریان حیدرآباد اپنے غریب پڑوسیوں اور مستحقین کی نشاندہی کرتے ہوئے ان تک مدد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہندستان کے کسی بھی مقام پر کوئی بھی آفت یا مصیبت کے دور میں شہر حیدرآباد کے عوام اپنا دست تعاون دراز کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے آئے ہیں کہ ملک بھر میں شہر حیدرآباد کو اس معاملہ میں انفرادیت حاصل ہے اور وہ مصیبت کے وقت کھڑے ہونے کے متعلق جانتے ہیں اوراس کے اجر و ثواب کے حصول میں وہ سب کو سبقت دینے کیلئے تیار ہوتے ہیں لیکن اب جبکہ دنیا بھر کے حالات انتہائی نا گفتہ بہ ہوچکے ہیں اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی صورتحال کے دوران بھی شہر حیدرآباد کے کئی سرکردہ تاجرین اور اہل خیر اپنے طور پر خاموشی کے ساتھ غرباء و مساکین کے علاوہ متوسط طبقہ کی مدد کررہے ہیں اور ان کی یہ مدد صرف شہر حیدرآباد یا سکندرآباد کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ شہر حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں بھی ان کی جانب سے راشن کی تقسیم کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور ریاست کے کئی اضلاع کو شہر حیدرآباد کے تاجرین شخصی طور پر اجناس اور دیگر اشیائے ضروریہ روانہ کرتے ہوئے خیر کے کاموں میں اپنی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ حیدرآباد میں کئی سرکردہ اداروں کے علاوہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اس کار خیر میں حصہ لیا جا رہاہے اور شہر کے کئی مقامات پر تیار غذاء کے ساتھ راشن کی تقسیم کا عمل اپنے طور پر جاری ہے لیکن اس کے علاوہ عام شہری جن کے پاس اپنی ضرورت کی تکمیل کے علاوہ رقومات ہیں وہ اپنے قریبی لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جناب عبدالرحمن سہیل مالک فرحت فوڈ سنٹر نے بتایا کہ ماہ رمضان المبارک کے دوران راشن کی تقسیم کے لئے جن روایتی اداروں کی جانب سے خدمات انجام دی جاتی تھیں اور جو سیاسی جماعتیں اور عوامی نمائندے فساد یا مصیبت کے دور میں امداد پہنچانے کے کام انجام دیتے تھے اس ایک ماہ کی لاک ڈاؤن کی مدت میں ان اداروں اور سیاسی جماعتوں و نمائندوں کو عوام نے پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ایک دوسرے کی مدد کی کئی ایک مثالیں بننے لگی ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ کئی لوگ اور سرکردہ تاجرین کی جانب سے اپنے نام کا اظہار کرنے سے بھی منع کررہے ہیں اور خاموشی کے ساتھ لوگوں تک راشن پہنچانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جو کہ ایک منفرد مثال دیکھنے میں آرہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں جن لوگوں کی جانب سے یہ کار خیر انجام دیا جا رہاہے وہ نہ صرف غریب لوگوں تک پہنچائی جا رہی ہے بلکہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے مستحقین کو بھی پہنچانے کے اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔