دوسرے مرحلہ میں چیف منسٹر کی انتخابی مہم ۔ تین انتخابی جلسوں سے خطاب
حیدرآباد ۔ 13 نومبر ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس کو اقتدار ملتے ہی عوام کو 400روپئے میں پکوان گیس ، راشن شاپس سے باریک چاول اور غریب عوام کو 5 لاکھ روپئے کا انشورنس فراہم کیا جائے گا ۔تلنگانہ کانگریس صدر ریونت ریڈی کا گھمنڈ و تکبر ہمالیہ سے بلند ہوگیا ہے ، کسانوں اور غریب عوام کی توہین کی جارہی ہے ۔ کانگریس کو خلیج بنگال میں پھینک دینے کی عوام سے اپیل کی ۔ چیف منسٹر نے آج سے اپنی بی آر ایس آشیرواد جلسوں کی دوسرے مرحلے کی مہم کا آغاز کرکے دوماپیٹ ، بورگم پاڈو اور نرسم پیٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 30نومبر تک دہلی ، گجرات ، کرناٹک ، اترپردیش کے علاوہ دیگر ریاستوں اور شہروں سے قائدین حیدرآباد اور تلنگانہ کا دورہ کرکے بی آر ایس حکومت کے خلاف الزامات اور تنقید کرتے ہوئے کانگریس اور بی جے پی کو ووٹ دینے پر فائدہ پہنچانے وعدے کریں گے ۔ انتخابات آتے ہی عوام کو الجھن کا شکار ہونے یا چچا، بھانجہ ، بھتیجہ ، شوہر اور بیٹے کے کہنے پر ووٹ کا فیصلہ نہیں کرنا چاہیئے بلکہ آپ با شعور ہیں ، گزشتہ 10سال سے تلنگانہ کی ترقی اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بی آر ایس حکومت نے کیا کام کیا ہے ۔ کانگریس اور بی جے پی ریاستوں میں تلنگانہ کی فلاحی اسکیمات پر عمل ہوا یا نہیں اس کا جائزہ لیں پھر ووٹ دیں ۔ کانگریس نے 55 سال تک حکمرانی کی ہے ، صرف دو گورنمنٹ میڈیکل کالجس دیئے ، ہم نے 10سال میں 20 سے زیادہ میڈیکل کالجس دیئے ، 24 گھنٹے زرعی شعبہ کو مفت برقی دی جارہی ہے ۔ ریسیڈنشیل اسکولس اور ہاسپٹلس کا جال پھیلا دیا گیا ہے ۔ دھرانی پورٹل متعارف کرواتے ہوئے زرعی و غیر زرعی اراضیات کے تنازعات کو ختم کردیا گیا جس سے درمیانی افراد کے رول کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ کانگریس ‘ دھرانی پورٹل کو ختم کرنے کا اعلان کرکے زرعی شعبہ کی سرگرمیوں کو صرف 3 گھنٹے برقی کا دعویٰ کررہی ہے ۔ رعیتو بندھو اسکیم کے تحت کسانوں کے بینک کھاتوں میں 72 ہزار کروڑ روپئے جمع کرائے گئے ہیں ۔بی آر ایس کی ہائی کمان تلنگانہ کی عوام ہے جبکہ کانگریس اور بی جے پی کی ہائی کمان دہلی اور گجرات ہے ۔ کانگریس تلنگانہ میں کرناٹک ماڈل کی بات کررہی ہے جبکہ یہ ماڈل ناکام ہے ۔ تلنگانہ عوام کانگریس پر بھروسہ کرکے اپنا مستقبل برباد نہ کریں ۔ بی آر ایس پر بھروسہ کریں ، پارٹی منشور میں جو وعدے کئے گئے ہیں اس کو پورا کریں گے ، وہ اس کی ضمانت دیتے ہیں ۔ تلنگانہ کے کانگریس قائدین دہلی کے اور بی جے پی کے قائدین گجرات کے غلام ہیں ، وہ اپنی طرف سے کوئی فیصلہ نہیں کرسکتے ، انہیں دہلی اور گجرات سے منظوری حاصل کرنی پڑھتی ہے جبکہ وہ آزادانہ فیصلہ کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں ۔ ن