پٹرول ، ڈیزل کی روزانہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر ، ٹرانسپورٹ چارجس میں بھی اضافہ
حیدرآباد :۔ پہلے سے پریشان عوام پر دودھ کی شکل میں مزید مالی بوجھ کا اضافہ ہونے جارہا ہے ۔ ڈیری اداروں کی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں فی لیٹر اضافہ کرنے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جارہا ہے ۔ کورونا بحران ، لاک ڈاون کے بعد ہر شعبہ مالی بحران کا شکار ہوچکا ہے ۔ عوام کا ماہانہ گھریلو بجٹ پوری طرح اُتھل پتھل ہوچکا ہے ۔ عام سرگرمیاں بحال ہونے کے بعد عوام ابھی مالی بحران سے نکلنے کی کوشش ہی کررہے تھے کہ ان پر پٹرول ، ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں اضافہ نے ان کی کمر توڑ دی ہے ۔ پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں گذشتہ 12 دن سے مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ دو ماہ کے دوران پکوان گیس کی قیمتوں میں 200 روپئے سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس سے اشیائے محتاج میں زبردست اضافہ ہوگیا ۔ ہر اشیاء کی قیمت ہفتہ میں تبدیل ہورہی ہے ۔ غریب و متوسط طبقات قیمتوں میں اضافہ سے پریشان ہیں وہیں ڈیری اداروں کی جانب سے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ڈیری اداروں کے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ اضافہ سے ٹرانسپورٹ کے چارجس میں اضافہ ہورہا ہے ۔ توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ بالخصوص ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے جانوروں کے لیے حاصل کئے جانے والے دانہ اور دودھ کی منتقلی کے لیے ٹرانسپورٹ کے چارجس میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے جو ہم پر مالی بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ اس کو عوام پر منتقل کرنا لازمی ہوگیا ہے ۔ فی لیٹر دودھ پر 2 روپئے کا اضافہ ہونے کا قوی امکان ہے ۔ مستقبل میں اس طرح پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو تب بھی دودھ کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہوجائے گا ۔
