عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کیلئے بے شمار اقدامات

   

اسمبلی میں شہری ترقیات کی پیشرفت سے متعلق سوالات پر کے ٹی آر کا جواب

حیدرآباد۔ 17 ستمبر (سیاست نیوز) ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے شہری ترقیات کے معاملے میں 60 سالہ تاریخ کو صرف 6 سال میں بدل دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شہری علاقوں میں عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کیلئے تلنگانہ حکومت بے شمار اقدامات کررہی ہے۔ اسمبلی میں شہری ترقیات کی پیشرفت پر ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ منصوبہ بند طریقہ سے تلنگانہ میں شہروں کو ترقی دی جارہی ہے۔ اقتدار کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کیلئے اضلاع کی تعداد میں توسیع کی گئی۔ نئے بلدیات اور کارپوریشن قائم کئے گئے۔ شہری علاقوں کے معاملے میں سارے ہندوستان میں تلنگانہ کو پانچواں مقام حاصل ہے۔ شہری علاقوں میں غریب عوام کی ترقی کو خدمات کے جذبہ سے آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اس کیلئے بلدیہ کا نیا قانون بنایا گیا ہے۔ نئے بلدی قوانین میں صاف و شفاف کے ساتھ جوابدہی نظام پر عمل کیا جارہا ہے۔ سوچھ بھارت، سوچھ سرویکشنا پر عمل کیا جارہا ہے۔ سوچھ بھارت کے تحت صد فیصد او ڈی ایف پر کامیابی حاصل کی گئی۔ چیف منسٹر کے سی آر کی ہدایت پر ہر بلدی حدود میں ہریتاہرم پروگرام بڑے پیمانے پر انعقاد کیا جارہا ہے۔ شہری علاقوں میں پینے کے پانی کو مزید مؤثر انداز میں پہنچانے کیلئے حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ کچرے کو تری اور خشک میں تبدیل کرتے ہوئے علحدہ کرنے میں بڑی حد تک پیشفت ہوئی ہے۔ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹیز قائم کئے گئے۔ انڈر گراونڈ ڈرینج سسٹم پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ حیدرآباد ملک میں پانچواں سب سے بڑا شہر کے طور پر ترقی حاصل کررہا ہے۔ بنیادی سہولتوں پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔ بلدیات میں ایل ای ڈی لائیٹس لگاتے ہوئے برقی کی بچت کی جارہی ہے۔ منفردانداز میں حیدرآباد میونسپل بانڈس متعارف کرائے گئے ہیں۔ شاہراہوں کو ترقی دی جارہی ہے۔ کچرے کی نکاسی کیلئے جواہر نگر ڈمپنگ یارڈ کے کیاپنگ عمل کو پورا کیا جارہا ہے۔ حیدرآباد میں تعمیرات کیلئے کچری کی ری سیکلنگ کیلئے دو پلانٹس تیار کئے جارہے ہیں۔ حیدرآباد میں صاف صفائی پر خصوصی منصوبہ بندی کے تحت کام کیا جارہا ہے۔ غریب عوام کو طبی امداد فراہم کرنے کیلئے بستی دواخانوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ مستقبل میں مزید بستی دواخانوں کو توسیع دی جائے گی۔ موسیٰ ندی کو ترقی دینے کے معاملے میں تلنگانہ کی حکومت عہد کی پابند ہے۔ نالوں کے پانی کی صفائی کیلئے ضرورت کے مطابق پلانٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے تمام عوامی خدمات کو دستیاب رکھا گیا ہے۔ شہر حیدرآبادمیں سڑکوں کی ترقی کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔ گذشتہ حکمرانوں نے 60 سال میں جو ترقی نہیں دی ہے اس کو ٹی آر ایس حکومت نے صرف 6 سال میں کر دکھایا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر اپنی خصوصی دلچسپی سے کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کو مختصر عرصہ میں مکمل کیا ہے۔ کالیشورم پراجکٹ کی تعمیر کو روکنے کیلئے کئی سازشیں کی گئی، سب ناکام ہوگئی یہاں تک کہ اپوزیشن جماعتوں نے عدلیہ سے رجوع ہوتے ہوئے رکاوٹیںپیدا کرنے کی کوشش کی لیکن تلنگانہ حکومت نے ریاست میں پانی کا مستقل حل برآمد کرلیا ہے۔