ریاست کے 138 بلدیات میں 500 کروڑ کی لاگت سے ترکاری و گوشت مارکٹوں کا قیام، مٹ پلی و کورٹلہ میں ترکاری پروگراموں سے ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ کا خطاب
مٹ پلی ؍ کورٹلہ ۔ جاریہ سال ریاست تلنگانہ کی 138بلدیات میں500 کروڑ کی لاگت سے ترکاری اور گوشت (VEG۔NONVEG) مارکیٹس کے قیام کے ترقیاتی کاموں کا انعقاد عمل میں لایا جارہا ہے۔اور ان بلدیات کے حدود میں شمشان گھاٹوں کی تعمیر ومرمت کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے حالیہ بجٹ میں مختص کردہ 200 کروڈ روپیوں کی لاگت سے آراستہ کیا جائے گا تاکہ کسی قسم کی دشواری پیش نہ ہو۔ان خیالات کا اظہار کلواکنٹلہ تارک راماراؤ ریاستی وزیر برائے بلدی نظم ونسق و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے شہر کورٹلہ،مٹ پلی میں مختلف ترقیاتی کاموں کے افتتاحی تقاریب میں شرکت کرتے ہوئے مابعد رکن اسمبلی کیمپ آفس میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست بھر میں مختلف ترقیاتی کاموں کو انجام دیا جارہا ہے۔ریاستی حکومت کی جانب سے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے طبی،تعلیمی سہولیات،صفائی،پانی کی سربراہی،اور حفظان صحت،اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کے قیام سے قبل تلنگانہ میں صرف 68 بلدیات موجود تھیں جبکہ آج 142 بلدیات موجود ہیں ریاستی عوام کی آبادی کا 43 فیصد حصہ شہری آبادی پر منحصر ہے۔انہوں نے کہاکہ مواضعات کی عوام بھی طبی،تعلیمی،روذگار کے سلسلہ میں شہروں کا رخ کررہی ہے۔اسیلئے حکومت کی جانب سے شہروں کو ترقی یافتہ بنانے کے اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے کہاکہ ریاست حکومت کی آمدنی میں مرض کروناء وائرس کے سبب خلل پیدا ہونے کے باوجود ریاست میں ترقیاتی کاموں کو جاری رکھا ہے۔جس کے تحت ریاست کے 138بلدیات میں اس سال 500کروڈ روپیوں کی لاگت سے (انٹیگریٹڈ مارکیٹس) ترکاری اور گوشت کی مارکیٹس کی تعمیر کے علاوہ 200کروڈ روپیوں کی لاگت سے شمشان گھاٹوں کے تعمیراتی کام، علحدہ فنڈس 325 کروڑ روپیوں کی لاگت سے ان بلدیات میں ریاست تلنگانہ میں پہلی بار متعارف فیکل سلڈج ٹریٹمنٹ پلانٹسFaecal Sludge Treatment Plant کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی۔ اور یہ ہی نہیں بلکہ ان سب کے علاوہ ریاست کی ان تمام بلدیات کیلئے منجملہ 148کروڈ روپیے آبادی کے تناسب سے پٹنہ پرگتی کے تحت جاری کرتے ہوئے مختلف ترقیاتی کاموں کو انجام دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جگتیال کے رکن اسمبلی ڈاکٹر سنجئے کمار، ریاستی وزیر کوپلہ ایشور کی نمائندگی پر ضلع جگتیال کیلئے میڈیکل کالج،نرسنگ کالج کی منظوری ریاستی وزیر اعلی جناب کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤکی جانب سے عمل میں لائی گئی ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں دونوں قائدین کو مبارکباد پیش کی۔اور کہا کہ 65سالوں کے عرصے میں گذشتہ حکومتوں نے صرف 4 میڈیکل کالجوں عثمانیہ، گاندھی، کاکتیہ، ریمس عادل آباد کا قیام عمل میں لایا تھا۔ جبکہ ریاستی وزیر اعلی جناب کلواکنٹلہ چندرشیکھرراؤ نے گذشتہ 7 سالوں میں پہلے ساڑھے چار سال کے اندرون میں 5 کالجوں سدی پیٹ،سوریہ پیٹ، نلگنڈہ، بی۔بی۔نگر،محبوبنگر کو منظوری دی جن میں چند کالجس کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے۔جبکہ حال ہی میں 7 کالجوں جگتیال، منچریال، محبوب آباد، ونپرتی، ناگر کرنول، کتہ گوڑم،کی منظوری عمل میں لاتے ہوئے عوامی مفادات اور حفظان صحت سے متعلق اہم کارنامہ انجام دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ضلع جگتیال ریاستی وزیر برائے اقلیتی بہبود جناب کپولہ ایشور کی زیر قیادت ترقی کی جانب گامزن ہے۔ وزیر موصوف نے دوران پریس میٹ اعادہ کیا کہ رکن اسمبلی کورٹلہ جناب کلواکنٹلہ ودیاساگر راؤ کی موجودگی میں انہوں نے ضلع کلکٹر جگتیال جناب جی۔روی کو حکم دیا ہے وہ ضلع جگتیال کے صحافیوں کیلئے جن مقامات پر مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی نہیں دی گئی لاک ڈاؤن کے بعد ان صحافیوں کو مکانات کی تعمیر کیلئے اراضی فراہم کی جائے۔ریاستی وزیر کلواکنٹلہ تارک راماراؤ نے ضلع جگتیال کے شہر کورٹلہ کے 23 نمبر وارڈ یسن گٹہ پر مجلس بلدیہ کی جانب سے تعمیر 1.83 کروڈ کی لاگت سے Faecal Sludge Treatment Plant کا افتتاح کیا۔مابعد گورنمنٹ وہیپ رکن اسمبلی چننور جناب بالکا سمن کو پرسہ دیا اور مٹ پلی میں ویلولہ روڈ کھادی بورڈ کے احاطہ میں بلدیہ مٹ پلی کی جانب سےMA&UD کے6.50 کروڈ فنڈس کے ذریعہ ترکاری اور گوشت کی مارکیٹس (انٹیگریٹڈ مارکیٹس)کی تعمیر اتی کام کیلئے سنگ بنیاد رکھا۔ریاستی وذیر کلواکنٹلہ تارک راماراؤ کی آمد کیساتھ ہی انکا عوامی نمائندوں اور ٹی۔آر۔یس پارٹی قائدین کی جانب سے ذبردست خیرمقدم کیا گیا۔اس موقع پر انکے ہمراہ ریاستی وزیر کپولہ ایشور، رکن اسمبلی کورٹلہ جناب کلواکنٹہ ودیاساگرراؤ،رکن اسمبلی سنجئے کمار،ضلع پریشد چیرمین داوا وسنتا سریش،ضلع کلکٹر جگتیال جناب جی۔روی،ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس محترمہ سندھو شرما،آر۔ڈی۔او کورٹلہ ونود کمار،صدرنشین بلدیہ کورٹلہ محترمہ انم لاؤنیا انیل،صدرنشین بلدیہ مٹ پلی محترمہ رناوینی سجاتا ست نارائنا،کے علاوہ عوامی نمائندے،محکمہ مال، بلدیہ،محکمہ پولیس کے علاوہ ٹی۔آر۔یس پارٹی قائدین کی کثیر تعداد موجود تھی۔