کرایہ کی معافی کے مرکزی حکومت کے اعلان کے بعد ریاستی حکومت سے عوام کی توقعات
حیدرآباد 30 مارچ(سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے سبب ملک بھر میں کرایہ داروں کے ایک ماہ کا کرایہ معاف کرنے مکانداروں کو ہدایات اور ضلع کلکٹر کو اس کام کے ذمہ دار بنائے جانے کے بعد اگر اب ریاستی حکومت کی جانب سے آئندہ تین ماہ کیلئے برقی اور پانی کے بل معاف کرنے کا اعلان کرتی ہے تو ریاست کے غریب عوام کو راحت حاصل ہوگی۔ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن سے پریشانیوں سے نمٹنے متعدد اقدامات کئے جا رہے ہیں اور عوام میں حکومت تلنگانہ کے متعلق اعتماد میں اضافہ ہوتانظر آرہا ہے ۔ حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر اضلاع کے شہریوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ریاست میں برقی و پانی کے صارفین کو راحت پہنچانے کیلئے بھی اقدامات کرتی ہے تو ریاست کے 80 لاکھ سے زائد خاندانوں کو فائدہ پہنچے گا۔ مکانداروں کا کہناہے کہ جب مرکزی حکومت کی جانب سے کرایہ وصول نہ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تو ریاستی حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ مکانداروں کو راحت فراہم کرنے کے طور پر برقی و پانی کے بلوں کی معافی کا اعلان کریں کیونکہ اس کا راست فائدہ عوام کو پہنچے گا اور اس مشکل وقت میں جو بلوں کی ادائیگی سے قاصر ہیں انہیں اسے حکومت کی جانب سے فراہم کی گئی مدد کے طور پر دیکھا جائے گا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بیرون ریاست کے شہریوں کیلئے رقمی امداد اور اجناس کے اعلان کے بعد تلنگانہ کے شہریوں میں بھی احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ حکومت سے ان کیلئے بھی کوئی معاشی پیاکیج کا اعلان کیا جائے گا اور ان کا کہنا ہے کہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے برقی اور پانی کے بلوں کی معافی کا اعلان کیاجاتا ہے تو یہ راست مدد ثابت ہوگی کیونکہ اس کیلئے کوئی درخواست یا درمیانی افراد کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ جو برقی صارفین اور پانی کا کنکشن رکھنے والے ہیں ان کیلئے یہ فائدہ مند ثابت ہو گا اور ان کی جیب پر اس نازک گھڑی میں عائد ہونے والے بوجھ سے محفوظ رہ سکیں گے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے اس سلسلہ میں پالیسی تیار کرنے ہدایات جاری کی ہیں لیکن ریاست پرعائد معاشی بوجھ کو دیکھتے ہوئے عہدیدارو ںکی جانب سے اس پر فوری کچھ بھی کہنے سے انکار کیا جا رہاہے اگر حکومت کی جانب سے واضح ہدایات اور احکام جاری کئے جاتے ہیں توریاست کے عوام کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔
