45 سال سے کم افراد زیادہ شکار ، اسٹروک پر فوری طبی امداد کا مشورہ ، ڈاکٹر پدما سریواستو ماہر امراض اعصاب کا بیان
حیدرآباد۔25 اکٹوبر(سیاست نیوز) ہندستان میں برین اسٹروک کی شرح نوجوانوں میں بڑھتی جا رہی ہے اور 45 برس سے کم عمر افراد اس کا شکار ہونے لگے ہیں جس کی بنیادی وجہ طرز زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلی ہے ۔ ماہرین امراض اعصاب کا کہناہے کہ نوجوانو ںکی زندگی میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلی کے سبب وہ اس مرض کا شکار ہونے لگے ہیں اور انہیں اس مرض سے محفوظ رہنے کیلئے لازمی ہے کہ وہ اپنے طرز زندگی کو بہتر بناتے ہوئے اصولوں کے مطابق زندگی گذاریں۔ 29اکٹوبر کو عالمی سطح پر منائے جانے والے ’اسٹروک ڈے‘ سے قبل کی جانے والی تیاریوں کے متعلق ڈاکٹرس کا کہناہے کہ بیماری کی موجودہ رفتار کو دیکھتے ہوئے اب اس بات کی شدید ضرورت محسوس ہونے لگی ہے کہ ہر علاقہ میں ایک اسٹروک سنٹر کا قیام عمل میں لایا جائے کیونکہ اسٹروک کا مسئلہ تیزی سے بڑھتا جا رہاہے اور اس کے تدارک کیلئے لازمی ہے کہ اسٹروک کی صورت میں فوری طورپر طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے اور اس بات کی کوشش کی جائے کہ عوام میں اسٹروک کی علامات کو عام کیا جائے تاکہ اسٹروک کی صورت میں انہیں فوری اس بات کا احساس ہوجائے کہ وہ کس مرض کا شکار ہورہے ہیں۔ماہرین امراض اعصاب کا کہنا ہے کہ جب تک مریض کو اس بات کا احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس بیماری کا شکار ہورہا ہے اس وقت تک اسٹروک کی علامات کو جاننا مشکل ہوتا ہے۔ ڈاکٹر پدما سریواستوا چیف آف ایمس نیورو سائنس سنٹر کا کہناہے کہ ہندستانی نوجوانوں کے طرز زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلی کے سبب یہ صورتحال پیدا ہورہی ہے اور وہ 45 سال سے کم عمر میں برین اسٹروک جیسی خطرناک بیماری کا شکار ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موٹاپا‘ کم سونا‘ سگریٹ و تمباکو نوشی کے علاوہ دماغی سکون نہ ہونے کے سبب برین اسٹروک کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی لئے صحتمند زندگی گذارنے کی سمت توجہ مرکوز کی جانی چاہئے ۔ انہو ںنے بتایا کہ اسٹروک کی علامات میں سب سے اہم بیالنس کھونا‘ ہاتھ اور پیر میں کمزوری کے علاوہ بات چیت میں دشواری اور چہرہ تیڑھا ہونا شامل ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اسٹروک کی صورت میں فوری طبی امداد پہنچاتے ہوئے مریض کو راحت فراہم کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اسٹروک سے ہونے والی طویل مدتی نقصانات سے محفوظ رہا جا سکتا ہے لیکن اگر ان اسٹروک کو نظر انداز کیا جاتا رہے تو ایسی صورت میںمرض جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے اسی لئے برین اسٹروک کے متعلق عوامی شعور بیداری عوام کو چوکنا رہنے میں مددحاصل ہوگی اور ان حالات میں فوری ماہر نیورولوجسٹ کا رابطہ کے ساتھ ادویات کے ذریعہ بیماری پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔