عوام کی جانب سے سیلف میڈیکیشن خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

   

ماہرین کی رائے، ڈاکٹر سے رجوع ہونے میں تاخیر نہ کریں، بخار کے ساتھ ہی علاج شروع کیا جائے
حیدرآباد: کورونا وباء کے معاملہ میں عوام کی جانب سے سیلف میڈیکیشن ماہرین کی نظر میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں کورونا کی دوسری لہر نے اموات کی تعداد میں اضافہ کے پیش نظر ماہرین نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ عوام کی اکثریت کورونا کا علاج ڈاکٹر یا دواخانہ میں کرنے کے بجائے خود اپنے طور پر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ دواخانوں کے زائد چارجس اور موت کے خوف کے نتیجہ میں سیلف میڈیکیشن کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجوہدہ حالت میں یہ رجحان خطرناک ثابت ہوگا اور بعض معاملات میں زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ دواخانہ کے زائد اخراجات یا پھر کسی اور خوف کے نتیجہ میں عوام علامات کے اظہار سے گریز کر رہے ہیں۔ بخار ، کھانسی ، سردی اور اعضاء شکنی کے باوجود ڈاکٹرس سے رجوع ہونے کے بجائے اپنے طور پر ادویات کا استعمال کر رہے ہیں جو انتہائی خطرناک اور دوسروں میں وائرس کو پھیلانے کا اہم سبب بن سکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق ابتدائی علامات کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع ہونے میں تاخیر مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔ عام طور پر دو دن سے زائد بخار کے باوجود ڈاکٹر سے رجوع نہ ہونے والے کئی افراد کی صحت سنگین نوعیت اختیار کر گئی اور ڈاکٹرس کے لئے ان کی زندگی بچانا دشوار ہوگیا۔ پانچ دن تک بخار کی موجودگی کورونا کا واضح ثبوت ہے اور ایسے میں کورونا کا علاج شروع نہ کرنے سے وائرس پھیپھڑوں کو متاثر کرنا شروع کرتا ہے۔ ڈاکٹرس نے بتایا کہ بخار اور دیگر علامات کے بارے میں لاپرواہی کرنے والے کئی افراد کو ہاسپٹل سے رجوع کرنے پر وینٹی لیٹر پر رکھنا پڑا۔ اگر بروقت علاج شروع کیا جائے تو زندگی کو بچایا جاسکتا ہے ۔ اکثر لوگوںکو یہ خیال ہے کہ ہر بخار کورونا نہیں ہوتا لیکن اس بات کا پتہ کیسے چلے گا کہ بخار کورونا سے متعلق نہیں ہے ۔ اس کے لئے ڈاکٹر سے رجوع ہوکر ضروری ٹسٹ کروانے ہوں گے ۔ عوام کو چاہئے کہ وہ معمولی علامات کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع ہو کر معائنے کروائیں تاکہ ابتدائی مرحلہ میں کورونا پر قابو پایا جاسکے ۔ پانچ دن سے زائد کی تاخیر عام طور پر جان کیلئے خطرہ ثابت ہورہی ہے ۔ معائنوں کے معاملہ میں بھی عوام کو اپنے طور فیصلہ کرنے کے بجائے ڈاکٹر کی ہدایت اور مشورے کے مطابق معائنے کرانے چاہئے ۔