عوام کی جان کی حفاظت، آبادی کی صحت پر توجہ ہندوستان کی ترجیحات

   

Ferty9 Clinic

کوویڈ۔19 نے پوری عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا، ہندوستان کو توقع سے زیادہ زک پہنچی
آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کورونا کے خلاف حکومت ہند کے اقدامات سے مطمئن : کرسٹالینا جارجیوا

واشنگٹن: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا کہنا ہیکہ ہندوستان کی ترجیحات میں زیادہ نازک حال لوگوں کا تحفظ کرنا، چھوٹے اور اوسط جسامت کے تجارتی اداروں کی اچھی طرح تائید و حمایت کرتے ہوئے ان کے مفادات کو محفوظ رکھنا شامل ہونا چاہئے۔ منیجنگ ڈائرکٹر آئی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے کہا کہ عالمی وباء کوویڈ۔19 سے لڑتے ہوئے ہر ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ جس کو بحال کرنے کیلئے منصوبہ بند طریقہ سے بتدریج اقدامات کرنے چاہئے۔ وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے جاریہ سالانہ اجلاس کے دوران یہاں نیوز کانفرنس سے مخاطب تھیں۔ کرسٹالینا نے کہا کہ آبادی کی صحت اور لوگوں کا دیگر پہلوؤں سے تحفظ ہندوستان کیلئے بدستور ترجیح ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے حالات کے پیش نظر ہندوستانی حکومت کو چاہئے کہ چھوٹے اور اوسط درجہ کے کاروباری اداروں اور کمپنیوں پر خصوصی توجہ مرکوز کرے۔ انہیں ضروری امداد فراہم کرے اور ان کو سنبھلنے کا بھرپور موقع عطا کرے۔ اسی طرح جب تک صحت کا بحران ختم نہیں ہوجاتا، مشکلات اور غیریقینی کیفیت کا سامنا ہوتا رہے گا۔ کوروناوائرس کو ہر جگہ کیلئے انسانی بحران قرار دیتے ہوئے کرسٹالینا نے کہا کہ ہندوستان میں ایک لاکھ افراد فوت ہوچکے ہیں۔

یہ مرض بالخصوص ان ممالک کیلئے زیادہ مہلک ہے جہاں جانی نقصان زیادہ ہورہا ہے۔ لہٰذا عوام کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ ان کی صحت پر توجہ دینا ضروری ہے۔ منیجنگ ڈائرکٹر آئی ایم ایف نے اعتراف کیا کہ حکومت ہند نے اپنی قابلیت کے اعتبار سے سنجیدہ اقدامات کئے ہیں۔ دو فیصد مالیہ کی قدر والے اقدامات کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں چار فیصد مالیہ ضمانتوں کی شکل میں فراہم کیا گیا ہے جو بلاشبہ راست مالی اقدامات کے زمرہ میں نہیں آتا۔ کرسٹالینا نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو حال ہی میں جو پیش قیاسی پر مبنی رپورٹ جاری کی ہے، اس کے مطابق ہندوستان میں رواں سال جی ڈی پی کافی ڈرامائی انداز میں سکڑ گئی اور شرح میں زائد از 10 فیصد کمی آئی ہے۔ تاہم، ہندوستان لچکدار معیشت ہے اس لئے پوری توقع ہیکہ ہندوستانی معیشت جلد ہی ابھر آئے گی۔ آئندہ سال کیلئے ہماری پیش قیاسی 8.8 فیصد شرح کے آس پاس ہے۔ ایک روز قبل آئی ایم ایف نے اپنی سالانہ ورلڈ اکنامک رپورٹ میں کہا تھا کہ پیش قیاسی بالخصوص ہندوستان کیلئے عمومی نوعیت کی ہے جہاں مجموعی دیسی پیداوار (جی ڈی پی) دوسرے سہ ماہی میں توقع سے کہیں زیادہ سکڑ گئی۔