عورت باوقار اور آزاد انسان ہے نکاح کیلئے رضامندی لازمی، بیوہ کو اپنے مستقبل کے فیصلہ کا اختیار

   

طالبان کا خواتین کے حقوق سے متعلق حکم نامہ جاری
کابل:افغانستان میں طالبان حکومت نے خواتین کے حقوق سے متعلق حکم نامہ جاری کردیا۔طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے خواتین کے حقوق سے متعلق فرمان جاری کیا ہے جس میں افغانستان میں نکاح کیلئے بالغ خاتون کی رضامندی لازمی قرار دی گئی ہے۔حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ عورت جائیداد نہیں بلکہ ایک باوقار اور آزاد انسان ہے، کوئی شخص بھی امن یا دشمنی ختم کرنے کیلئے کسی بھی خاتون کو تبادلے کیلئے استعمال نہیں کر سکتا اور نہ ہی خاتون پرشادی کیلئے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے۔حکم نامے میں کہا گیاہے کہ بیوہ کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا اختیار ہوگا، کسی بیوہ کا کوئی بھی عزیز اس کی زبردستی دوسری شادی نہیں کرواسکتا، بیوہ کو اس کے شوہر، بچوں اور والدکی جائیداد میں سے شرعی حق ملے گا۔خواتین کے حقوق سے متعلق حکم نامے کے مطابق ایک سے زیادہ شادیاں کرنے والے برابری کی بنیاد پر بیویوں کے حقوق کا خیال رکھیں گے۔حکم نامے میں تمام اداروں، علمائے کرام اور قبائلی عمائدین کو خواتین کے حقوق پر عمل کرنے اور کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔طالبان حکومت کے اعلان میں کہا گیا کہ عدالتیں اپنے فیصلوں سے قبل قانون اور مذہبی ہدایات کو ملحوظ خاطر رکھیں اور وزارت اطلاعات ان حقوق کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔طالبان کے پچھلے دور حکومت کے دوران طالبان نے خواتین پر محرم مرد کے بغیر گھر سے نکلنے، پردے کے بغیر کھلے عام پھرنے اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگا رکھی تھی۔