عہدیداروں کو ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت : کھرگے

,

   

مودی حکومت نے ملک کیلئے کئی چیلنجز پیدا کردیئے ہیں، کانگریس اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اتوار کو کہا کہ پارٹی کے ہر عہدیدار اور لیڈر کو ذمہ داری کے ساتھ عوامی خدمت کے اپنے کردارکرتے ہوئے مودی حکومت سے تنگ ہرشخص کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا اور احساس خدمت کی اسی سپردگی کے زورپر پارٹی کو اقتدار میں لایا جا سکتا ہے ۔ کھڑگے نے آج یہاں کانگریس اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کچھ ساتھی یہ سمجھتے ہیں کہ ذمہ داریوں کو نظر انداز کیا جاسکتا ہے تو یہ ان کی بھول ہوگی اور اسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ اگر عہدیدار ذمہ داری پوری نہیں کر پاتے تو ان کی جگہ پارٹی کے نئے قائدین کو موقع دینا ہو گا۔ اس مشکل ارادے کے ساتھ چل کر ہی کانگریس کو اقتدار میں لایا جا سکتا ہے ۔کانگریس صدر کے انتخاب کے بعد پارٹی کی اعلیٰ پالیسی سازتنظیم ورکنگ کمیٹی کی جگہ پارٹی کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی تھی اور اب کانگریس کے اجلاس میں نئے عہدیداروں کا تقرر کیا جائے گا۔ پارٹی صدر کے انتخاب کے بعد یہ کمیٹی کی پہلی میٹنگ تھی، جس میں پارٹی کی سابق صدر سونیا گاندھی اور اسٹیئرنگ کمیٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ میٹنگ میں کانگریس سیشن کی تاریخ پر بھی تبادلہ خیال کیا جانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے ملک کے سامنے کئی چیلنجز پیدا کردیے ہیں اور ان چیلنجوں کی وجہ سے عام آدمی کے سامنے کئی مسائل کھڑے ہو گئے ہیں۔ پارٹی کے عہدیداروں کو عوام کے ان مسائل کو ذمہ داری کے ساتھ سننا، سمجھنا اور انہیں حل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ کانگریس لیڈر نے کہا، “حکمران طاقتیں موجودہ ماحول میں نفرت کے بیچ بوکر تقسیم کے کھیتی کاٹنے میں مصروف ہیں اوراس کے خلاف کانگریس کے ہر لیڈر اورعہدیدار کو مل کر لڑنا ہے ۔ یہ ہم سب کا فرض ہے اور یہی راشٹر دھرم بھی ہے ۔ عہدیداروں سے ذمہ داری سے کام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے مسٹر کھڑگے نے کہا، ”میرا ماننا ہے کہ پارٹی اور ملک کے تئیں ہماری ذمہ داری کا سب سے بڑا حصہ ہے ۔ اگر کانگریس تنظیم مضبوط ہوگی، جوابدہ ہوگی، لوگوں کی امیدوں پر پورا اترے گی، تب ہی ہم الیکشن جیت کر ملک کے عوام کی خدمت کر سکیں گے ۔ میں پارٹی کے جنرل سیکرٹریز اور انچارجز سے چاہوں گا کہ وہ سب سے پہلے اپنی ذمہ داری اور تنظیم کی ذمہ داری کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر عہدیدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جس کے آپ انچارج ہیں ، اگلے 30 سے 0 دنوں کے اندر بتائیں کہ تنظیم اورعوامی مفاد کے مسائل پر تحریک کا کیا خاکہ ہے ۔

’ہاتھ سے ہاتھ جوڑیں‘ مہم
شروع کرنے کانگریس کا اعلان
نئی دہلی: کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے کانگریس اسٹیئرنگ کمیٹی کی میٹنگ طلب کی جس میں یہ اعلان کیا گیا ہیکہ بھارت جوڑو یاترا کے بعد کانگریس ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم شروع کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی پرینکا گاندھی کو بھی ایک بڑی ذمہ داری سونپنے کی بات کہی گئی ہے۔ کھرگے کے صدر منتخب ہونے کے بعد اسٹیئرنگ کمیٹی کی یہ پہلی بڑی میٹنگ تھی۔ اس میٹنگ کے بعد بتایا گیاکہ 26 جنوری کے قریب بھارت جوڑو یاترا سری نگر پہنچے گی۔ اس کے بعد 26 جنوری سے ہاتھ سے ہاتھ جوڑو مہم کا آغاز کیاجائیگا۔ دو ماہ تک جاری رہنے والی اس مہم کے تحت بلاک سطح پرسفر، ضلع سطح پر اورریاستی سطح پر کنونشن منعقد کیے جائیں گے۔
جس میں بھارت جوڑو یاترا اور مودی حکومت کے خلاف چارج شیٹ کا پیغام عام لوگوں تک پہنچایا جائے گا۔ کھرگے سمیت پارٹی کے تمام بڑے لیڈران ان پروگراموں میں شرکت کریں گے۔ کانگریس نے اعلان کیا ہے کہ پرینکا گاندھی ہر ریاست میں خواتین کے مارچ کی قیادت کریں گی۔

جن صوبوں میں آج سے سال 2024 کے درمیان اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں، وہاں انتخابات تک کی منصوبہ بندی اور سرگرمی کا شیڈول کیا ہے ۔ آپ جب تک خود، آپ کے سکریٹری، ریاستی صدور، پارٹی ایم ایل اے ، ایم پی ان تمام اہم چیزوں کا خاکہ تیار کرکے زمینی سطح پر نافذ نہیں کریں گے ، ہماری ذمہ داری پوری نہیں ہوسکتی۔ کھڑگے نے ‘بھارت جوڑو یاترا’ کی تعریف کرتے ہوئے کہا، “ملک میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے والے مسٹر راہل گاندھی کی قیادت میں جاری بھارت جوڑو یاترا آج 88 دن مکمل کرکے رات کے وقت راجستھان کی سرحد میں داخل ہوگی۔ بھارت جوڑو یاترا نے اب ایک قومی تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ایک ایسی تحریک جو ملک میں کمر توڑ مہنگائی، شدید بے روزگاری، ناقابل برداشت معاشی، سماجی عدم مساوات اور نفرت کی سیاست کے خلاف فیصلہ کن جنگ کی اپیل ہے ۔ ملک کے کروڑوں لوگ راہل گاندھی جی اور کانگریس کے عزم سے جڑے ہیں۔ بھارت جوڑویاترا کا ایک قومی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لیناہی اس یاتراکی کامیابی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں نے یہ سب اس لیے کہا کیونکہ مودی حکومت ملک کے لوگوں، ان کے حقوق، ان کے امیدواروں پر حملہ کر رہی ہے اور ان کی حفاظت کرنا کانگریس کی ذمہ داری ہے ۔