عیدالاضحی کے پیش نظر بکروں کے بازار ، قیمتیں آسمان کو چھو گئی

   

Ferty9 Clinic

مضافات اور و نواحی علاقوں میں بکرے سستے ، شوقیہ تاجرین کو نقصان کا امکان
حیدرآباد۔19جولائی(سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں عید الاضحی کی تیاریاں زورو شور سے جاری ہیں اور شہر کے روایتی بکرا بازاروں کے علاوہ شہر کے نواحی و مضافاتی علاقوں میں بکروں کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے ۔ شہریوں کی جانب سے شہری حدود میں لگائے گئے بکروں کے مندوں سے بکرے خریدنے کے بجائے نواحی و مضافاتی علاقوں سے بکروں کی خریدی کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ بیشتر مضافاتی علاقو ںمیں راست دھنگر بکرے فروخت کر رہے ہیں اور ا ن کی قیمت فروخت اور شہر میں شوقیہ بکروں کی تجارت کرنے والوں کی قیمت میں کافی فرق ہونے کی وجہ سے شہریوں نے ان علاقوں کا رخ کرنا شروع کردیا ہے جو کہ شہرکے قریب ہیں اور جہاں دھنگر بکروں کی فروخت انجام دے رہے ہیں۔ آرسی آئی روڈ بالا پور‘ جل پلی ‘ پہاڑی شریف‘ عطا پور‘ راجندر نگر کے علاوہ شمس آباد اور شاد نگر سے بھی شہریوں نے بکرے خریدنے شروع کردیئے ہیں کیونکہ ان علاقوں میں جانور کم قیمت میں حاصل ہورہا ہے جبکہ ملک پیٹ‘ چنچل گوڑہ ‘ دارالشفاء‘ ٹولی چوکی ‘ مہدی پٹنم‘ نامپلی کے علاوہ ضیاء گوڑہ میں بکروں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ دیکھا جا رہاہے حالانکہ چنگی چرلہ ‘ اپل‘ گھٹکیسر ‘کے علاوہ دیگر نواحی علاقوں میں بکروں کی قیمتیں معمول کے مطابق ہیں۔ شہر حیدرآباد میں عید الاضحی کے قریب بکرو ںکی تجارت میں شوقیہ اترنے والے نوجوانوں کو اس مرتبہ بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ شہریوں کے لئے شمس آباد‘ شاد نگر‘ بالا پور‘ ملا پور‘ آرسی آئی ‘ جل پلی‘ گھٹکیسر علاقہ کوئی طویل مسافتی علاقہ نہیں رہے اسی لئے شہریوں کی جانب سے بکروں کی خریدی کیلئے ان علاقوں کا رخ کیا جانے لگا ہے ۔ دھنگروں کی جانب سے جو بکرے فروخت کئے جا رہے ہیں وہ دراصل حکومت کی مویشی پالن اسکیم کے تحت دھنگروں میں تقسیم کئے گئے بکرے ہیں اور جو شہر میں نوجوانوں کی جانب سے تجارتی مقصد سے بکرے لائے گئے ہیں وہ بھی ان دھنگروں سے ہی خریدے گئے جانور ہیں ۔ مستقل طور پر اس کاروبار سے وابستہ افراد کی اکثریت عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی خرید و فروخت سے اجتناب کرتی ہے کیونکہ ان کا کہناہے کہ شوقیہ طور پر جو لوگ یہ کام کرتے ہیں وہ جانورو ں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کا سبب بنتے ہیں اسی لئے وہ عید الاضحی کے دوران صرف اپنے مستقل گاہکوں کیلئے ہی جانوروں کی خرید و فروخت کرتے ہیں اور عیدالاضحی کے فوری بعد دھنگروں کو خریداروں کی ضرورت ہوتی ہے اور کوئی خریدنے والا نہیں ہوتا جبکہ عید سے قبل نوجوانوں جو شوقیہ طور پر یہ کاروبار کرتے ہیں وہ ناتجربہ کاری کے سبب جانوروں کی قیمت میں اضافہ کا سبب بنتے ہیں ۔