پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ۔ کسی طرح کی کارروائی سے گریز ۔ نماز عید مسجد میں ادا کی گئی
جگتیال میں فرقہ پرستوں نے پولس کی موجودگی میں شر انگیزی کی ۔ عیدگاہ کے ممبر کو شہید کرکے بھگوا جھنڈہ لہرایا گیا ‘ کمکما ڈالا گیا پوجا پاٹ ہنومان چالیسہ پڑھا گیا اور پولیس خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی ۔ پولیس نے اس شرانگیزی میں ملوث افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔ پولیس کی خاموشی سے فرقہ پرست عناصر اپنے ناپاک منصوبہ میںکامیاب ہوگئے ۔ یہ جگتیال ضلع میںپہلا واقعہ نہیں ہے ۔ ضلع میں کبھی عیدگاہ کی مینار کو نقصان تو کبھی عیدگاہ کی میناروں پر بھگوا جھنڈے لہرا نا اور شراب کی بوتلیں پھیکنا اور مسجد میں قرآن مجید اور جاء نمازوں کو جلانے کا واقعہ تو کبھی مسجد کی مینار پر بھگوا جھنڈہ لہرانے اور مسجد کے سامنے واقع ہنومان مورتی کی توسیع کرکے ماحول کو مکدر کرنے سازشیں جاری ہے ۔ ان کے خلاف پولس کو کاروائی کی ضرورت ہے ۔ جگتیال کے بیر پور منڈل نرسمھلہ پلی موضع میں فرقہ پرست عناصر نے عیدالفطر سے عین قبل پر امن فضاْ کو مکدر کرنے کی سازش کرکے عیدگاہ پر نماز سے روکنے اور عیدگاہ کو برخواست کرنے احتجاج کئے ۔ ایک مسلم شخص شیخ امام کے نام پر 10 ایکڑ سے زائد پٹہ زرعی اراضی میں ایک سمت روڈ ہے ۔ روڑ سے منسلک 6 گنٹے اراضی کو عیدگاہ کیلئے وقف کرکے گذشتہ 6 سال سے عید الفطر اور عیدالاضحٰی کی نماز ادا کر رہے ہیں اس سال فرقہ پرستوں نے نماز عید کو روکنے ہنگامہ کیا ۔ وہاں پہنچ کر مسلم طبقہ جو صفائی میں مصروف تھا ۔ پولس نے مسلم قائدین اور ریونیو آفیسر تحصیلدار سجاتا اور آر آئی کو پولس اسٹیشن طلب کرکے بات کی اور دو دن میں مسئلہ کی یکسوئی کا تیقن دیا اور مسلمانوں کو مسجد میں عید نماز ادا کرنے کی خواہش کی ۔ مسلمانوں نے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور سے مسجد میں نماز ادا کی لیکن فرقہ پرستوں نے پولس کی موجودگی میں عیدگاہ کے ممبر کو شہید کرکے بھگوا جھنڈہ لہرا کر کمکما ڈال کر پوجا پاٹ شروع کی ۔ مقامی مسلمانوں نے دریافت کرنے پر پولس نے جھنڈہ اور پوجا پاٹ کو صاف کرکے 145، 144 دفعہ نافذ کرکے عیدگاہ کے قریب رکاوٹیں لگائیں اور رات بھر مسلمانوں کے مکانات پر نظر رکھی گئی ۔ مقامی مسلمان عید کی نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد جگتیال صدر ملت اسلامیہ کو اطلاع دی اور پولس سے دریافت کیا تاہم پولیس مناسب جواب نہیں دے رہی ہے ۔ضلع یس پی اشوک کمار سے ملاقات اور تحریری شکایت کی کوشش کی ۔ مقامی مسلمان و صدر ملت اسلامیہ جگتیال اور تحفظ ختم نبوت کے ذمہ داروں کے وفد نے یس پی اشوک کمار سے ملاقات کرکے شکایت حوالے کی ۔ ضلع یس پی کو مقامی پولس نے گمراہ کیا اور غلط رپورٹ پیش کی اور کچھ نہ ہونے کا ادعا کیا ۔ جبکہ مسلم وفد نے ویڈیوز اور تصاویر دکھائے ۔ وفد نے فرقہ پرست عناصر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبا کیا ۔