عیدالفطر کی خریداری کے ذریعہ کورونا وائرس کا شکار نہ ہوں

   

Ferty9 Clinic

علمائے کرام کی مسلمانوں سے اپیل، متعصب میڈیا کی مسلمانوں پر نظریں
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) شہر کے سرکردہ علمائے کرام مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ اور مولانا غیاث الدین رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عیدالفطر کی خریداری سے گریز کرتے ہوئے اُسی رقم کو غریب مسلمانوں میں راشن اور دیگر ضروری اشیاء کی تقسیم پر خرچ کریں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں مسلمانوں نے رمضان المبارک کی عبادتوں کا گھروں میں اہتمام کیا۔ اب جبکہ جمعۃ الوداع اور عیدالفطر قریب ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قانون کی پاسداری کرتے ہوئے گھروں میں نماز کا اہتمام کریں۔ اُنھوں نے کہاکہ مخصوص میڈیا کی جانب سے رمضان کی خریداری کے نام پر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ٹی وی چیانلس پر بازاروں میں مسلمانوں کے ہجوم دکھاتے ہوئے کورونا کے خطرہ کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ اگر مسلمان خود کو بازاروں سے دور نہیں رکھیں گے تو کورونا کے لئے پھر ایک بار اُنھیں مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ مولانا جعفر پاشاہ نے کہاکہ کورونا وائرس کی دوائی یا ویکسن ابھی ایجاد نہیں ہوئی ہے لہذا بازاروں میں جانا کورونا کا شکار ہونا ہے لہذا مسلمانوں کو ہرممکن احتیاطی قدم اُٹھانے چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ لاک ڈاؤن چونکہ عید کے بعد بھی جاری رہے گا لہذا حکومت کی جانب سے مساجد اور عیدگاہوں میں نماز عیدالفطر کی اجازت کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت نے جس محدود تعداد میں نماز کی اجازت دی ہے اُس کے مطابق مساجد میں نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ بعض علماء نے گھر میں نماز عید کی ادائیگی کی اجازت دی ہے اور اگر کوئی خطبۂ عید کا اہل ہو تو نماز کے بعد خطبہ دے سکتے ہیں۔ بعض علماء اور مفتیان کرام نے عید کے دن نماز چاشت یا نماز شکرانہ کی ادائیگی کو کافی قرار دیا ہے۔ مسلمانوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ عیدالفطر کے موقع پر کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے اُنھیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے یا پھر متعصب میڈیا کو مسلمانوں کو بدنام کرنے کا موقع مل جائے۔ علمائے کرام نے کہاکہ کورونا سے بچاؤ کیلئے صرف احتیاطی اقدامات ضروری ہے لہذا اِس لاعلاج مرض سے بچنے کے لئے ہمیں بازاروں سے دور رہنا ہوگا۔ مولانا جعفر پاشاہ نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران بھی شاپنگ کے لئے بھیڑ دکھائی دینا افسوسناک ہے حالانکہ ابھی بھی کئی مسلم خاندان ایسے ہیں جو نہ صرف اناج بلکہ روزانہ کے کھانے سے محروم ہیں۔ ایسے خاندانوں کی مدد ہمارا فرض ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ آخر کس بات کی خوشی ہے کہ ہم عید کو نئے کپڑے پہننا چاہتے ہیں۔ کیا ہم نے رمضان المبارک کی عبادتوں کا حق ادا کردیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ خود کو ہلاکت میں ڈال کر شاپنگ کرنا ضروری نہیں ہے لہذا مسلمانوں کو بازاروں کے بجائے اپنا وقت عبادتوں میں صرف کرنا چاہئے تاکہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرسکیں اور وہ ہمیں کورونا سے نجات دینے کا تحفہ دے۔