سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم کی پہل، تجارتی علاقے سنسان
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے عیدالفطر کی خریداری سے مسلمانوں کو روکنے کے لئے بنگلور میں باقاعدہ مہم کا آغاز کیا ہے جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دوکانات اور تجارتی اداروں کو کھولنے کی اجازت کے باوجود بازاروں میں سناٹا دکھائی دے رہا ہے اور گاہے ماہے جو خواتین خریداری کے لئے نکل رہی ہیں اُنھیں مسلم نوجوان سمجھاکر واپس بھیج رہے ہیں۔ اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ رمضان المبارک اور عید کی خریداری سے غیر اقلیتی طبقہ کے دوکانداروں کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے کیوں کہ اُن کے بڑے شوروم ہوتے ہیں اور نئے اسٹاک کے شوق میں مسلمان اُن دوکانات سے رجوع ہوتے ہیں۔ سابق مرکزی وزیر نے چیف منسٹر کرناٹک کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے عیدالفطر کی نماز کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ حکومت کی جانب سے ابھی تک مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا گیا لیکن سی ایم ابراہیم کا ماننا ہے کہ جب رمضان المبارک میں ہم نے مساجد میں عبادت نہیں کی تو پھر عیدالفطر کی خریداری کا کیا جواز ہے۔ اگر حکومت نماز عیدالفطر کی مساجد اور عیدگاہوں میں ادائیگی کی اجازت دیتی ہے تو پھر عید کی خریدی پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جس طرح ایک ماہ تک مسلمانوں نے تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت کے قانون کی پاسداری کی اور خود کو گھروں تک محدود رکھا اُسی طرح مزید چند دن صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ سی ایم ابراہیم نے کہاکہ جس طرح ہم نے رمضان المبارک کی ساری عبادتیں حتیٰ کہ جمعے بھی گھر میں ادا کئے، اب جبکہ عیدالفطر کے لئے چند دن باقی ہیں، حکومت تاجر برادری کے دباؤ میں بازاروں کو کھول رہی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو بازاروں سے دور رکھیں اور عید سادگی سے منائیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آج بھی کئی غریب خاندان عید کی خوشیوں کے اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ایسے خاندانوں کی مدد کرتے ہوئے مسلمانوں کو نیکیاں کمانے کی فکر کرنی چاہئے۔ لاک ڈاؤن نے غریبوں اور متوسط طبقات کی کمر توڑ دی ہے لہذا عید کی خریداری کے بجائے اُسی رقم کو غریبوں کو ضرورت مندوں پر خرچ کریں۔ اُنھوں نے بتایا کہ بنگلور میں مسلمانوں کو خرید و فروخت سے روکنے کی جو مہم شروع کی گئی اُس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور کئی مسلم دوکانداروں نے اپنے طور پر کاروبار کو عید تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔