وقف بورڈ فوری قیمتی اراضی کا تحفظ کرے، محمد مسیح اللہ خان سابق چیرمین وقف بورڈ کا احتجاج
حیدرآباد۔7۔فروری(سیاست نیوز) عیدگاہ زہرہ نگر بنجارہ ہلز کی انتہائی قیمتی اراضی پر سب رجسٹرار دفتر کی تعمیر کے علاوہ اسے عوامی استعمال کے پارک کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کے خلاف سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے شدید احتجاج کرتے ہوئے مقامی عوام کے ہمراہ مذکورہ عیدگاہ کا دورہ کرتے ہوئے ریاستی حکومت اور تلنگانہ وقف بورڈ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرے۔ گذشتہ یوم کئے گئے اس احتجاج کے دوران سابق صدرنشین وقف بورڈ نے الزام عائد کیا کہ رکن اسمبلی خیریت آباد مسٹر ڈی ناگیندر اس عیدگاہ کی اراضی پر سرکاری دفاتر تعمیر کروانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں عہدیداروں سے مسلسل نمائندگی کرتے ہوئے کہا جار ہاہے کہ اس اراضی کو حاصل کرتے ہوئے سرکاری دفاتر کے تعمیری منصوبہ کو قطعیت دے دی جائے ۔ جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ پڑوسی حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز میں حکومت نے مسلمانوں سے قبرستان کی اراضی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس وعدہ کو پورا کرنے کے بجائے اب حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں موجود عیدگاہ کی اس انتہائی قیمتی اراضی کو حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ کئی برسوں سے اس کھلی اراضی پر عیدین کی نماز ادا کی جا رہی ہے اور کسی بھی گوشہ سے اس پرکوئی اعتراض نہیں کیاگیا لیکن اب متعلقہ رکن اسمبلی عیدگاہ کے طور پر استعمال کی جانے والی اس اراضی کوسرکاری دفاتر کے طور پر استعمال کے نام پر حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ نے محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں بالخصوص تلنگانہ وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بنجارہ ہلز کے علاقہ زہرہ نگر میں موجود اس انتہائی قیمتی اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں اقدامات کرے تاکہ مقامی عوام کو حاصل سہولت کو برقرار رکھا جاسکے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ جوبلی ہلز میں قبرستان کے لئے اراضی کی تخصیص میں ناکام ہونے کے بعد اس طرح کے اقدامات سے مسلمانوں کی ناراضگی میں اضافہ کی کوشش فوری طور پر بند کردے۔ جناب محمد مسیح اللہ خان کے دورہ کے دوران مقامی مسلمانوں نے مذکورہ اراضی کی تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ کئی برسوں سے اس اراضی کا نماز عیدین کے لئے استعمال کیا جا رہاہے اور مسلسل اس اراضی کو عیدگاہ کی اراضی قرار دیتے ہوئے گزٹ کی اجرائی کا مطالبہ کیا جاتا رہاہے اور خود متعلقہ رکن اسمبلی مسٹر ڈی ناگیندر عوام سے اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ وہ اس اراضی کی حوالگی اور تحْصیص کو یقینی بنائیں گے۔3