رباط: مراقش کے بادشاہ نے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہیکہ وہ اس سال عید الاضحی کے موقع پر بھیڑوں کی قربانی سے گریز کریں کیونکہ خشک سالی کے باعث مویشیوں کی آبادی کو خاصا نقصان پہنچا ہے اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔مسلم دنیا میں ہر سال عید الاضحی کے موقع پر لاکھوں بھیڑیں، بکرے اور دیگر مویشیوں کی قربانی کی جاتی ہے جو اسلامی تعطیلات کا ایک اہم موقع ہے جو اس سال جون میں آرہی ہے لیکن مراقش مسلسل ساتویں سال خشک سالی کا سامنا کر رہا ہے جس کے باعث 12 ماہ میں مویشیوں کی تعداد میں 38 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ وزارتِ زراعت کے مطابق اس سال گذشتہ 30 سالوں کی اوسط مقدار سے 53 فیصد کم بارش ہوئی ہے۔
شاہ محمد ششم نے چہارشنبہ کو قومی ٹیلی ویژن پر تقریر میں کہا، “ہمارا ملک موسمیاتی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس کے نتیجے میں مویشیوں کی آبادی میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔” یہ تقریر مذہبی امور نے پڑھی۔عید کے تہوار کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے بادشاہ نے اپنے لوگوں سے کہا، “قربانی کی رسم ادا کرنے سے گریز کریں۔عید الاضحی سنتِ ابراہیمی کی یاد میں منائی جاتی ہے جب پیغمبراسلام حضرتِ ابراہیم ؑ نے اپنے صاحبزادے حضرتِ اسماعیلؑ کو قربان کیا تھا۔محمد ششم کے والد حسن دوم نے 1966 میں اسی طرح کی اپیل کی تھی جب ملک طویل خشک سالی کا شکار تھا۔