عید سے عین قبل بازاروں کی کشادگی کی سازش سے چوکسی ضروری
حیدرآباد۔19مئی(سیاست نیوز) اللہ کے رسول ؐ نے روئے زمین پر سب سے بہترین جگہ مسجد کو قرار دیا ہے اور سب سے بد ترین مقام بازار کو کہا ہے اور موجودہ حالات میں حدیث کے مطابق بہترین جگہ یعنی مساجد میں آنے پر پابندی ہے اور بدترین جگہ یعنی بازاروں کو کھول دیا گیا ہے اور وہاں جانے کی اجازت حاصل ہے۔ ملک کے موجودہ حالات میں عیدالفطر سے عین قبل توقع کے مطابق بازاروں کی کشادگی کے ذریعہ کی جانے والی سازش کو محسوس کریں اور کئی گوشوں سے کی جانے والی عید سادگی سے منانے کی اپیلوں پر عمل آوری کو یقین بنائیں۔مولانا حافظ پیر خلیق احمد صابرجنرل سیکریٹری جمیعۃ علمائے ہند تلنگانہ و آندھرا پردیش نے عامۃ المسلمین کو بازار جانے سے قبل اپنا محاسبہ کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ جب مساجد بند ہیں اور عبادتوں و اعتکاف کے علاوہ تراویح کا اہتمام نہیں ہوپا رہا ہے ایسے وقت میں بازاروں میں پہنچ کر خریداری کرنے والوں کو اپنا محاسبہ کرتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ان کے دل زندہ ہے یا مردہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں جب کبھی مشکل حالات رہے ہیں ان حالات میں مسلمانوں نے اپنا کلیدی کردار ادا کیا ہے اور کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کیلئے مسلمانوں نے نہ صرف خود احتیاط کیا بلکہ اپنے سینے پر پتھر رکھتے ہوئے مساجد میں محدود تعداد پرراضی ہوگئے اور ساتھ ہی جمعہ کے اہتمام سے گریز کرنے کیلئے حامی بھر چکے ہیں اور اس مشکل وقت میں راستوں پر کھڑے ہوکر مزدوروں کو کھلانے اور ان کی خدمت کرنے کی کوشش کی اور ان کی یہ محنت اب نوٹ کی جانے لگی ہیں ۔ مولانا حافظ پیر خلیق احمد صابر نے کہا کہ ان سازشوں اور حالات کو سمجھیں اور گذشتہ 25یوم کے دوران ماہ رمضان المبارک کے دوران گھروں کی حد تک محدود رہتے ہوئے جو عبادات کی گئی ہیں ان میں مزید کثرت کریں کیونکہ آخری عشرہ کی ساعتیں تیزی سے گذرنے لگی ہیں ۔ مولانا مفتی زبیرقاسمی نے بتایا کہ ہندستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی نشاندہی کے عمل کی ابتداء کے دوران جو حالات پیدا ہوئے تھے اس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ابتداء میں ہی مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے وباء کے لئے ذمہ دار قرار دیا جانے لگا تھا اور اب بھی وہی سازش ہے عید کی خریداری کے نام پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔