عید الفطر کا ریاست بھر میں جوش و خروش سے انعقاد، عیدگاہوں اور مساجد میں کثیر اجتماعات

   

عیدگاہ میر عالم میں ایک لاکھ فرزندان توحید کا سجدۂ شکر، عبادات اور نیکیوں پر قائم رہنے علماء کی تلقین، گورنر، چیف منسٹر اور بی آر ایس سربراہ نے مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی

حیدرآباد۔ 22 مارچ (سیاست نیوز) رمضان المبارک کے اختتام پر ریاست بھر میں عید الفطر کا روایتی مذہبی جذبہ اور جوش و خروش کے ساتھ انعقاد عمل میں آیا۔ حیدرآباد اور ریاست کے تمام بڑے شہروں میں عیدگاہوں میں نماز عید الفطر کے وسیع تر انتظامات کئے گئے تھے۔ ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے خشوع و خضوع کے ساتھ نماز عید ادا کی اور ایک ماہ تک روزے اور دیگر عبادات کے لئے بارگاہ خداوندی میں سجدۂ شکر ادا کیا۔ حیدرآباد کی تمام عیدگاہوں اور بڑی مساجد میں نماز عید الفطر میں بڑے اجتماعات دیکھے گئے اور صبح کی اولین ساعتوں سے ہی نماز عید کی ادائیگی کے لئے فرزندان توحید نئے لباس زیب تن کئے ہوئے اپنے بچوں اور افراد خاندان کے ساتھ مساجد اور عیدگاہوں کی طرف رواں دواں دکھائی دیئے۔ جاریہ سال عید الفطر کی خاص بات یہ رہی کہ مساجد میں نماز عید الفطر کے اہتمام کے باوجود شہر کے تمام عیدگاہ اور بڑی مساجد تنگ دامنی کا شکوہ کررہی تھیں۔ عیدگاہ میر عالم میں نماز عید الفطر کا سب سے بڑا اجتماع دیکھا گیا جہاں ایک اندازہ کے مطابق تقریباً ایک لاکھ فرزندان توحید نے بارگاہ خداوندی میں سجدۂ شکر بجالاتے ہوئے آئندہ بھی نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا عہد کیا۔ مولانا محمد سیف اللہ شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ اور مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے نماز عید سے قبل خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو رمضان کے بعد بھی عبادات اور نیکیوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ عید الفطر دراصل ایک ماہ کی عبادات کا انعام اور اجرت حاصل کرنے کا دن ہے۔ رمضان المبارک میں جس طرح فرزندان توحید نے عبادتوں کے اہتمام اور نیکیوں کے معاملہ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے اسی طرح آئندہ ایام میں بھی مسلمانوں کو اپنی زندگی میں اسوہ حسنہ کو اختیار کرتے ہوئے نیکیوں پر قائم رہنے کا عہد کرنا چاہئے۔ مولانا محمد سیف اللہ نے عید الفطر کی اہمیت اور اس کی فضیلت پر روشنی ڈالی اور کہا کہ رمضان المبارک کی طرح ہر مسلمان زندگی بھر نیکیوں پر قائم رہنے کا پابند ہے۔ مولانا حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ شریعت پر عمل آوری کے ذریعہ ہی دنیا اور آخرت میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مولانا محمد رضوان قریشی خطیب مکہ مسجد نے نماز عید الفطر کی امامت کی اور خطبہ کے فرائض انجام دیئے۔ عیدگاہ میر عالم میں صبح سے ہی فرزندان توحید کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا اور سڑک کے دونوں جانب دور دور تک صفیں دکھائی دے رہی تھیں۔ حکومت اور وقف بورڈ کی جانب سے مصلیوں کی سہولت کے لئے موثر انتظامات کئے گئے تھے۔ صحت و صفائی کے علاوہ پارکنگ کے معقول انتظامات تھے اور ٹریفک پولیس کے عہدیدار اور ملازمین مصلیوں کے رہنمائی کررہے تھے۔ پولیس کی جانب سے ہر سال کی طرح عید گاہ کے احاطہ میں خصوصی کیمپ لگایا گیا جس میں کمشنر پولیس حیدرآباد وی سی سجنار، جوائنٹ کمشنر تفسیر اقبال اور دیگر اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ نماز عید کی ادائیگی کے بعد کمشنر پولیس اور دیگر عہدیداروں نے مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کی۔ کمشنر پولیس نے کمسن بچوں کو چاکلیٹ کا تحفہ پیش کیا۔ نماز عید کا دوسرا بڑا اجتماع تاریخی مکہ مسجد میں دیکھا گیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں فرزندان توحید نے نماز ادا کی۔ امام مکہ مسجد حافظ و قاری عبداللطیف نے امامت کی اور خطبہ دیا۔ عید گاہ قدیم مادنا پیٹ میں مولانا سید یوسف مدنی نے امامت اور خطبہ کے فرائض انجام دیئے۔ عیدگاہ بلالی مانصاحب ٹینک، این ٹی آر اسٹیڈیم، قلی قطب شاہ اسٹیڈیم، عیدگاہ فرسٹ لانسر، عیدگاہ گنبدان قطب شاہی، عیدگاہ چلکل گوڑہ، عیدگاہ بالمرائی سکندرآباد، عید گاہ اجالے شاہ سعید آباد، شاہی مسجد باغ عامہ، جامع مسجد گٹلا بیگم پیٹ، جامع دارالشفاء، مسجد عامرہ عابڈس، مسجد عزیزیہ مہدی پٹنم اور دیگر مساجد میں بھی نماز عید الفطر کے موقع پر روح پرور مناظر دیکھے گئے۔ حیدرآباد اور ریاست کے تمام اضلاع میں اہم سیاسی پارٹیوں کے قائدین اور حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں نے عیدگاہوں اور مساجد کے پاس پہنچ کر مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔ کئی مقامات پر قومی یکجہتی اور ہندو ۔ مسلم رواداری کے مناظر دیکھے گئے۔ ہندو بھائیوں نے مساجد اور عیدگاہوں کے قریب پہنچ کر مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔ گورنر شیوپرتاپ شکلا ، چیف منسٹر ریونت ریڈی، بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ اور ریاستی وزراء نے عید الفطر کے موقع پر خصوصی پیامات میں مسلمانوں کو مبارکباد پیش کی۔ ایک ماہ تک روزوں کے اہتمام اور تراویح ، قیام اللیل، تلاوت قرآن، طاق راتوں کی خصوصی عبادات، اعتکاف، زکوۃ، فطرہ اور صدقات کی ادائیگی جیسی نیکیوں پر مشتمل ماہ مقدس کو مسلمانوں نے بادیدۂ نم وداع کیا۔ حکومت کی ہدایت پر تمام اہم محکمہ جات کی جانب سے عیدگاہوں اور مساجد کے اطراف خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ 1