کولکتہ کا غذائی اے ٹی ایم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی عملی تصویر، روزانہ 200 بچوں کی مدد
کولکتہ 17 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) مغربی بنگال کے دارالحکومت کے ایک علاقہ میں دوپہر کا گھنٹہ بجنے کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سی بارہ دری کھانے کی متلاشی و بے تاب و بے چین آنکھوں والے خالی پیٹ ننھے منے بچوں سے بھر جاتی ہے۔ مفت کھانے کے وعدہ نے کئی پڑوسی علاقوں کے بچوں کو بھی اس مقام پر پہونچادیا ہے جہاں عیسائی ننس (خاتون راہبائیں) اور مسلم بچوں کو مفت غذا فراہم کرتی ہیں۔ یہ ننھے بچے ایک ساتھ بیٹھ کر ایک دوسرے کی رکابیوں میں کھاتے ہیں اور فرقہ پرستی سے آلودہ پُرآشوب حالات میں یہ مقام فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور انسانی محبت کی ایک جیتی جاگتی تصویر پیش کرتا ہے۔ اس مقام کو ’غذائی اے ٹی ایم‘ بھی کہا جاتا ہے جو کولکتہ کے میری وارڈ سوشیل سنٹر نے لوریٹو کانوینٹ اینٹلی میں چلایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد تانگرا، موتی جھیل، دھاپا اور پالمیر بازار جیسے سلم علاقوں میں رہنے والے بچوں کو پیٹ بھر غذا فراہم کرتا ہے۔ اس مرکز میں یومیہ کم سے کم 200 بچوں کو غذا دی جاتی ہے اور منتظمین کو اُمید ہے کہ مزید امداد موصول ہونے پر اس قسم کے مزید غریبوں کو مفت کھانا کھلایا جائے گا۔ بعض اہل خیر خاندان اور افراد بھی انفرادی طور پر مدد فراہم کرتے ہیں۔ فوڈ اے ٹی ایم سنٹر کی ڈائرکٹر مونیکا سوچیانگ نے جو اس منفرد پروگرام کی معمار و بانی بھی ہیں، کہاکہ چہارشنبہ کو ایک خاندان رجوع ہوا اور دریافت کیاکہ آیا وہ ایک دن کے لئے 20 بچوں کے کھانے کا اپنی طرف سے انتظام کرسکتے ہیں۔ اس طرح جمعرات کو بھی چند ایسے ہی افراد پہونچے اور یہی سوال کیا اس طرح مدد پہونچائی ہے۔ ادارہ ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔
