اسرائیلی شہری ڈرور گولڈ اسٹین کا بچوں کے باپ ہونے کا دعویٰ
بنگلورو۔17؍جولائی ا(ایجنسیز ) کرناٹک میں گوکرنا کے قریب ایک غار میں دو لڑکیوں کی اپنی روسی ماں کے ساتھ پائے جانے کے بعد بچوں کی تحویل پر ایک غیر معمولی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ ایک اسرائیلی شہری ڈرور گولڈ اسٹین نے بچوں کا باپ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں کی مشترکہ تحویل کی درخواست کی ہے۔ گولڈ اسٹین اس ہفتے بنگلورو پہنچے۔روسی خاتون نینا کْٹینا گزشتہ ہفتے اترا کنڑ ضلع کے دور افتادہ رام تیرتھ پہاڑیوں کے ایک غار میں اپنی بیٹیوں پریہ (6) اور اما (4) کے ساتھ پائی گئی تھیں۔ حکام نے خاندان کو کاروار میں ایک عارضی پناہ گاہ میں منتقل کر دیا۔ بعد میں حکام نے تصدیق کی کہ 2017 میں ہندوستانی ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد بھی کْٹینا یہاں رہ رہی ہے۔ 38 سالہ گولڈ اسٹین نے بتایا کہ جیسے ہی انہیں اپنی بیٹیوں کی حالت کا علم ہوا وہ فوراً ہندوستان آگئے۔ انہوں نے بنگلورو میں صحافیوں سے کہاکہ میری خواہش ہے کہ میں اپنی بیٹیوں کے قریب رہوں اس لئے ان تحویل کا مطالبہ کررہا ہوں۔ میں ان سے ملنا، ان کے ساتھ رہنا اور ان کا باپ بننا چاہتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ کْٹینا کئی ماہ قبل گوا میں واقع ان کے گھر سے انہیں بتائے بغیر چلی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے گمشدگی کی شکایت درج کرائی تھی۔ وہ اسرائیل میں جنگ جاری رہنے کی وجہ سے کئی کوششوں کے باوجود اس سے قبل ہندوستان نہیں آسکے تھے۔گولڈ اسٹین نے بنگلورو میں مقیم وکیل بینا پلئی کو مشترکہ تحویل میں مدد کیلئے مقرر کیا۔ پلئی نے کہا کہ یہ جوڑا 2017 سے ایک ساتھ رہ رہا ہے اور دونوں لڑکیاں ان کے رشتے کے دوران پیدا ہوئیں۔ پریا یوکرین میں پیدا ہوئی اور اما ہندوستان میں پیدا ہوئی۔پلئی نے کہاکہ وہ خاندان کی مالی مدد کرتا تھا اور ہر ماہ تقریباً 4000 ڈالر بھیجتا تھا۔ جب 2024 کے آخر میں ماں اور بچے غائب ہو گئے تو اس نے پنجی پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی۔گولڈ اسٹین کے مطابق، کْٹینا نے بچوں کو اسکول جانے یا دوسروں کے ساتھ ملنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ بچوں کو کْٹینا کے ساتھ روس ڈی پورٹ کیا جا سکتا ہے۔اپنی پولیس شکایت میں گولڈ اسٹین نے الزام لگایا کہ کْٹینا نے اس پر حملہ کیا، اس کے ساتھ بدسلوکی کی اور ذاتی اخراجات اور اس کے خاندان کو بھیجنے کیلئے رقم کا مطالبہ کیا۔ گولڈ اسٹین نے کہا کہ وہ اپنی بیٹیوں سے ملنے دو بار فارنرس ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) گئے لیکن انہیں ان سے ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ ایف آر آر او فی الحال ویزا کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے کْٹینا کو ڈی پورٹ کرنے کے عمل میں ہے۔