غازی آباد میں پاسپورٹ جعلسازی کا اسکینڈل بے نقاب

   

ایک ہی پتہ پر 22پاسپورٹ جاری۔تمام درخواستوں میں ایک ہی موبائیل نمبر
نئی دہلی 2 فروری:(ایجنسیز)اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں پاسپورٹ سے متعلق ایک منظم جعلسازی نیٹ ورک کا پردہ فاش ہوا ہے جس نے سرکاری نظام کی نگرانی پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ایک ہی رہائشی پتے کو استعمال کرتے ہوئے 22 افراد کے پاسپورٹ جاری کرا لیے گئے، جبکہ تمام درخواستوں میں ایک ہی موبائل نمبر درج تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی بے ضابطگی نہیں بلکہ منصوبہ بند فراڈ ہے۔یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب دہلی کے علاقائی پاسپورٹ دفتر نے مشتبہ درخواستوں کے سلسلے میں تحریری شکایت درج کرائی۔ حکام کو شبہ اس وقت ہوا جب ایک جیسے پتے اور رابطہ نمبر بار بار استعمال ہونے لگے، حالانکہ پاسپورٹ اجرا کے عمل میں کڑی تصدیق لازمی ہوتی ہے۔ شکایت ملتے ہی غازی آباد پولیس نے تکنیکی اور زمینی سطح پر بیک وقت جانچ شروع کی۔تحقیقات کے دوران پولیس جب درج شدہ پتوں پر پہنچی تو وہاں کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں تھا جس کے نام پر پاسپورٹ جاری کیا گیا ہو۔ پڑوسیوں نے بھی ان ناموں سے لاعلمی ظاہر کی۔ اس سے واضح ہو گیا کہ جعلی شناخت اور فرضی پتوں کا سہارا لے کر سرکاری ریکارڈ کو گمراہ کیا گیا۔ افسران کے مطابق اس طرح کی جعلسازی قومی سلامتی کے نقط نظر سے بھی تشویشناک ہے۔جانچ آگے بڑھی تو شبہ مقامی ڈاک خانے تک جا پہنچا۔ پولیس کے مطابق ترسیل کے مرحلے میں تعینات پوسٹ مین ارون کمار اس نیٹ ورک کا اہم کردار نکلا۔ الزام ہے کہ اس نے سرکاری ذمہ داری کو نظر انداز کرتے ہوئے پاسپورٹ اصل پتوں پر پہنچانے کے بجائے براہ راست گروہ کے افراد کے حوالے کیے۔ اس طرح جعلسازوں نے پاسپورٹ کی تقسیم کا آخری مرحلہ بھی اپنے قابو میں رکھا۔پوچھ گچھ میں انکشاف ہوا کہ ارون کمار کو ہر پاسپورٹ کے عوض رقم دینے کا لالچ دیا گیا تھا۔ اسی مالی فائدے کے لیے وہ اس غیر قانونی سرگرمی میں شامل ہو گیا۔ پولیس نے ایک خاتون سمیت 26 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اور اب تک پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ دیگر ملزمان کی تلاش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس نیٹ ورک کے تار دیگر شہروں یا ریاستوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی پاسپورٹ تصدیقی عمل کو مزید سخت بنانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ایسی جعلسازی کی گنجائش باقی نہ رہے۔ً