اگریکلچر یونیورسٹی کا کانوکیشن، گورنر رادھا کرشنن نے 752 طلبہ میں ڈگریاں تقسیم کیں
حیدرآباد 10 جون (سیاست نیوز) گورنر سی پی رادھا کرشنن نے پروفیسر جئے شنکر تلنگانہ اسٹیٹ اگریکلچر یونیورسٹی کے چھٹویں کانوکیشن میں چانسلر کی حیثیت سے شرکت کی۔ سی پی رادھا کرشنن جو تلنگانہ کے علاوہ جھارکھنڈ کے گورنر اور پوڈوچیری کے لیفٹننٹ گورنر ہیں، کانوکیشن میں کامیاب امیدواروں میں گولڈ میڈل، ڈگری اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حوالے کی۔ گورنر نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ حالات میں زرعی شعبہ کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور کہاکہ اگریکلچر دراصل تمام کلچرس کی بنیاد ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہندوستان دنیا کی عظیم آبادی والا ملک ہے اور وہ غذائی اجناس کی درآمد کا متحمل نہیں ہوسکتا لہذا ہندوستان کو زرعی پیداوار میں خود مکتفی بنانے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ گورنر نے نوجوان گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ پیداوار میں اضافہ، فی ایکر غذائی اجناس کی بہتر پیداوار، پانی کے کم استعمال کے ذریعہ غذائی اجناس کی کاشت اور معیاری بیج کی سربراہی جیسے اُمور پر مزید تحقیق کرتے ہوئے زرعی شعبہ کی ترقی کا باعث بنیں۔ اُنھوں نے کہاکہ نئے گریجویٹس اور ڈاکٹریٹس کو زرعی شعبہ سے اپنی وابستگی کا ثبوت فراہم کرنا چاہئے۔ دنیا میں زرعی شعبہ میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مسابقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملک میں زرعی پیداوار میں اضافہ کیا جائے۔ اُنھوں نے زرعی شعبہ کی ترقی میں نئی اختراعی ٹیکنالوجی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کا مشورہ دیا تاکہ کسانوں کی مدد کی جاسکے۔ گورنر نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کی جانب سے زرعی شعبہ کی بھلائی کے اقدامات کے نتیجہ میں گزشتہ 10 برسوں میں کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں کمی آئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ پیداوار کی مالیت میں کمی کرتے ہوئے بہتر کاشت کے لئے ریسرچ کیا جاسکتا ہے۔ گورنر نے اِس موقع پر 752 طلبہ کو ڈگری عطا کی جس میں انڈر گریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی شامل ہیں۔ 11 پی جی اور پی ایچ ڈی طلبہ کے علاوہ انڈر گریجویٹ 8 طلبہ کو گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ مس بی دیویا فیکلٹی آف اگریکلچر اور مس سائی پرتیوشا فیکلٹی آف اگریکلچر انجینئرنگ کو غیرمعمولی تعلیمی مظاہرہ پر فی کس 6 گولڈ میڈل دیئے گئے۔ وائس چانسلر ایم رگھونندن راؤ آئی اے ایس کے علاوہ کانوکیشن کے مہمان خصوصی سی ایچ سرینواس شیٹی منیجنگ ڈائرکٹر اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے بھی مخاطب کیا۔ اِس موقع پر یونیورسٹی کی اکیڈیمک کونسل کے ارکان، رجسٹرار اور سابق وائس چانسلرس شریک تھے۔ 1