غریبوں کو اراضی الاٹمنٹ کے احکامات پر عمل آوری سے گریز

   

احتجاج کرنے سی پی آئی کی دھمکی، حیدرآباد ضلع کمیٹی اجلاس سے نرسمہا کا خطاب
حیدرآباد: 29 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹریٹ سی پی آئی کے رکن ای ٹی نرسمہا نے الزام عائد کیا کہ غریبوں کو اراضیات باقاعدہ بنانے سے متعلق جی او 58 اور 59 پر عمل آوری میں عہدیدار تساہل سے کام لے رہے ہیں۔ ای ٹی نرسمہا نے آج سی پی آئی حیدرآباد ڈسٹرکٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اراضیات پر قابض غریبوں کو حکومت نے اراضی الاٹ کرتے ہوئے باقاعدہ بنانے کے لیے جی او 58 اور 59 جاری کیا ہے۔ حکومت کے عہدیدار غریبوں کے حق میں فیصلہ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ بے گھر غریب خاندانوں کو اراضی الاٹمنٹ کے لیے سی پی آئی جدوجہد کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے فیصلے کے مطابق جس اراضی پر غریب قابض ہیں اسے باقاعدہ بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے احکامات پر فی الفور عمل آوری کی جائے بصورت دیگر کمیونسٹ پارٹی احتجاج منظم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے حیدرآباد کو پانی سربراہ کرنے والے ذخائر آب عثمان اور حمایت ساگر کی اراضی پر ریئل اسٹیٹ سرگرمیوں کے لیے جی او 111 سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔ حکومت کے فیصلے سے ذخائر آب کو نقصان ہوگا۔ ای ٹی نرسمہا نے کہا کہ آبگیر علاقوں میں تعمیری سرگرمیوں سے شدید بارش کی صورت میں سیلاب کا خطرہ لاحق رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے قربت رکھنے والے ریئل اسٹیٹ تاجروں کی مدد کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے حیدرآباد میں غریبوں کو ڈبل بیڈروم مکانات فراہم کرنے میں حکومت پر ناکامی کا الزام عائد کیا۔ سی پی آئی کے سکریٹری حیدرآباد ڈسٹرکٹ ایس چھایا دیوی، اسسٹنٹ سکریٹری بی اسٹالن، بی وینکٹیشم، جی چندرا موہن گوڑ، شمس الدین، محمد سلیم اور دوسروں نے خطاب کیا۔ر