پنشن کی کٹوتی غیر انسانی: ڈاکٹر شراون
حیدرآباد۔یکم اپریل (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے ترجمان جی نرنجن نے کہا کہ راشن دکانوں سے اناج کی تقسیم کے بارے میں حکومت نے ابھی تک رہنمایانہ خطوط طے نہیں کئے ہیں جس کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ آج سے ریاست بھر میں اناج کی تقسیم کا اعلان کیا گیا تھا اور صبح 6 بجے سے لوگ راشن شاپس کے روبرو قطاروں کی شکل میں کھڑے ہوگئے۔ 11 بجے دن تک بھی راشن شاپ ڈیلر یا پھر کوئی عہدیدار نہیں پہنچا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اناج اور رقم کی تقسیم کے بارے میں تفصیلات ہر راشن شاپ پر آویزاں کرے تاکہ مقررہ وقت پر عوام پہنچ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے اعلان کو ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود سفید راشن کارڈ ہولڈرس چاول اور امدادی رقم سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے جو امداد تقسیم کی جارہی ہے اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے عوام کو کوئی سہولت نہیں ہے۔ اسی دوران اے آئی سی سی ترجمان ڈاکٹر ڈی شراون نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ پنشنرس کے وظیفے میں کٹوتی کے فیصلے سے دستبرداری اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہوں اور پنشن میں کٹوتی جی او ایم ایس 27 مورخہ 30 مارچ کے ذریعہ کی گئی ہے جو سابق میں جاری کئے گئے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ سابقہ احکامات میں حکومت نے خانگی اداروں کو ملازمین کی تنخواہیں کم کرنے کے خلاف انتباہ دیا تھا۔ شراون نے کہا کہ 30 تا 40 سال سرکاری ملازمت کرنے کے بعد وظیفے پر انحصار ہوتا ہے۔ وظیفے کی رقم سے ادویات، غذا اور دیگر ضروریات کی تکمیل کی جاتی ہے۔
