چیف جسٹس این وی رمنا کا مشورہ، نلسار یونیورسٹی کے کانوکیشن سے خطاب
حیدرآباد۔/19 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس این وی رمنا نے نوجوان لاء گریجویٹس کو مشورہ دیا کہ وہ غریبوں کو انصاف کی فراہمی اپنا اولین مقصد بنائیں تاکہ غریبوں کو ان کے حقوق حاصل ہوسکیں۔ نلسار یونیورسٹی کے 18ویں کانوکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب میں جسٹس این وی رمنا نے کہا کہ لاء گریجویٹس کو سماج میں انصاف اور حقوق سے محروم افراد پر توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ انصاف رسانی میں زبان کو رکاوٹ نہ بنایا جائے زبان چاہے کوئی ہو لیکن معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حقوق دلانے اور انصاف کیلئے جدوجہد کرنے نوجوانوں کو آگے آنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان اپنی طاقت اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ملک میں انصاف کی فراہمی کو ایک نئی راہ دکھا سکتے ہیں۔ جسٹس رمنا نے یکساں طور پر انصاف کی فراہمی کیلئے مساعی کرنے کا وکلاء کو مشورہ دیا۔ انہوں نے نوجوان لاء گریجویٹس سے کہاکہ وہ بنیادی سطح تک پہنچ کر عوام سے ان کے مسائل کے بارے میں راست بات چیت کریں اور انہیں عدلیہ تک پہنچائیں۔ نلسار یونیورسٹی سے اپنی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس رمنا نے کہا کہ برکت پورہ میں ایک چھوٹی سی عمارت میں یونیورسٹی کا آغاز ہوا تھا لیکن آج یونیورسٹی ایک عظیم ادارہ میں تبدیل ہوچکی ہے۔ اس موقع پر جسٹس این وی رمنا نے مختلف عنوانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے لاء گریجویٹس میں ایوارڈز اور سند تقسیم کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ ستیش چندر شرما، وزیر قانون اندرا کرن ریڈی، وائس چانسلر نلسار پروفیسر فیضان مصطفی، ہائی کورٹ ججس اور معززین کی کثیر تعداد شریک تھی۔ر