غریبوں کو ذاتی مکانات کے خوابوں کی تعبیر‘ لیت و لعل کا شکار

   

متحدہ ضلع محبوب نگر میں ڈبل بیڈ مکانات کی تعمیر انتہائی سست رفتار‘ کاموں کی انجام دہی سے کنٹراکٹرس کا گریز
حیدرآباد ۔ 27 ؍ اکٹوبر ( سیاست نیوز) متحدہ ضلع محبوب نگر میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے لئے ٹنڈرس طلب کئے گئے جانے کے باوجود کنٹراکٹرس پہل نہ کرنے کی وجہ سے ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر انتہائی سست رفتار پائی جاتی ہے ۔ جبکہ ریاستی حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کرنے کی اسکیم کو اولین ترجیجی اسکیمات میں شامل رکھنے کے باوجود اور خصوصی توجہ دینے کے علاوہ ڈسٹرکٹ کلکٹرس بھی اتنی ہی توجہ دینے کے باوجود اس اسکیم کی عمل آوری میں ہر سطح پر ناکامی ہی دیکھی جا رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ غریب عوام کے ذاتی مکان کے خواب کو پورا کنے کے لئے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ کی کوشش و جدوجہد کوبھی قدم قدم پر مشکلات ہی پیش آ رہی ہیں ۔ اہل تمام افراد کو ڈبل بیڈ روم مکانات منظور کر کے فراہم کرنے کے لئے حکومت تیار رہنے کے باوجود تعین کردہ تعمیر اخراجات کنٹراکٹرس کے لئے مناسب نہ رہنے کے باعث مکانات کی تعمیر کے لئے کنٹراکٹرس کوئی بھی آگے بڑھنے سے گریز کرتے رہے‘ جس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک موقع پر صرف شخصی طور پر انفرادی مکانات تعمیر کرنے پر دلچسپی کا اظہار کرنے والے عہدیداروں نے بعدازاں کنٹراکٹروں کے لئے مناسب رقومات کی فراہمی کے لئے بعض مقامات پر جی پلس ٹو عمارتوں کی تعمیر پر اپنی توجہ مرکوز کی ‘ جس کی وجہ سے بعض مقامات پر اراضی مسئلہ کی بھی یکسوئی ممکن ہوسکی ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان حالات کی روشنی میں تعمیری کام تیزی کے ساتھ مکمل ہونے کی توقع کے ساتھ عہدیدار بعض مرتبہ ٹنڈرس بھی طلب کئے ‘ لیکن اس کے باوجود کنٹراکٹرس کئی مقامات پر ان مکانات کے کاموں کی انجام دہی کے لئے آگے بڑھنے سے گریز کرتے رہے ۔ جس کی وجہ سے متحدہ ضلع محبوب نگر میں نارائن یپٹ ‘ جوگولانبا ‘ گدوال اور ونپرتی اضلاع میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر بہت ہی سست رفتار ہے ۔ جبکہ حکومت کے لئے اولین ترجیحی اسکیم تصور کی جانے والی ڈبل بیڈ روم اسکیم پر خصوصی توجہ دیئے جانے کے باوجود تمام ضلع کلکٹرس متعلقہ اعلی عہدیدار‘ کنٹراکٹروں کے ساتھ متعدد مرتبہ اجلاس طلب کر کے انہیں (کنٹراکٹرس) کو ترغیب دینے کی کوشش کرنے کے باوجود تعمیری کام توقع کے مطابق انجام نہیں پا رہے ہیں ‘ جس کی وجہ سے حکومت مکانات فراہم کرنے کے اپنے وعدہ کو پورا کرنے کے موقف میں دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ لیکن ڈبل بیڈ روم مکانات دینے کا وعدہ کرنے والی حکومت سے مکانات منظور کرکے فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے استفادہ کنندے عہدیداروں کے پاس مسلسل چکر کاٹتے دکھائی دے رہے ہیں ۔

بتایا جاتا ہے کہ اب تک ہی ہر پیر کے دن ضلع مستقروں پر منظم کئے جانے والے ’’پرجاوانی‘‘ پروگرام کے دوران تین اضلاع سے زائد از دس ہزار افراد نے ڈبل بیڈ روم مکانات منظور کرنے کے لئے درخواستیں پیش کئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ نچلی سطح پر ڈبل بیڈ روم مکانات کی مانگ کے پیش نظر مقامی ارکان اسمبلی کی کوششوں سے ریاستی حکومت نے اضلاع محبوب نگر ‘ جوگولانبا ‘ گدوال ‘ نارائن پیٹ اور ونپرتی کیلئے جملہ 15352 مکانات منظورکئے اور ان مکانات کی تعمیر کے لئے حکومت نے تقریبا 290 کروڑ روپئے بھی منظور کرکے جاری کرنے کے احکامات بھی متعلقہ عہدیداروں کو دیئے گئے ۔ لیکن نچلی سطح پر پائے جانے والے متعدد مسائل ‘ بلدی مسائل کی وجہ سے اب تک صرف اور صرف 2627 مکانات کی تعمیر مکمل طو رپر عمل میں آئی ۔ اس طرح حکومت کی جانب سے منظور ڈبل روم مکانات کی تعداد کے منجملہ صرف 19 فیصد ڈبل روم مکانات کی تعمیر مکمل ہوچکی ۔ جبکہ بتایا جاتا ہے ضلع محبوب نگر میں جملہ 7313 ڈبل بیڈ روم مکانات منظور کئے گئے اور 7481 ڈبل بیڈ روم مکانات کے لئے بھی عہدیداروں نے ٹنڈرس طلب کئے اور فی الوقت 7481 ڈبل بیڈ روم مکانات کے منجملہ 6453 مکانات کے لئے ہی طلب کردہ ٹنڈرس کو قطعیت دی گئی اور ان میں 4768 ڈبل روم مکانات تعمیرات کے آغاز کے لئے نہ صرف تیار ہیں بلکہ تعمیری کاموں کا آغاز بھی ہوا ہے علاوہ ازیں بتایاجاتا ہے کہ ضلع محبوب نگر میں اب تک صرف 2326 ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے ۔