غریبوں کو ڈبل بیڈروم مکان دلانے کا جھانسہ

   

’خود ساختہ ‘آفیسرس غریبوں کی زندگی کی جمع پونجی کو لوٹ رہے ہیں
حیدرآباد ۔ 29 اکٹوبر ( سیاست نیوز) غریبوں کے خواب کہ ان کا بھی ذاتی مکان ہو ، دھوکہ بازوں کے حق میں پیسے کی بارش کررہاہے اور غریب ان دھوکہ بازوں پر بھروسہ کرتے ہوئے لاکھوں روپیوں سے محروم ہورہے ہیں اور ان دھوکہ بازوں کے جال میں پھنسنے والے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں افراد ہیں اور یہ غریب اپنی محنت مزدوری کے ذریعہ اپنا نصف پیٹ بھرتے ہوئے ایک ایک پیسہ جمع کر کے ذاتی مکان کے چکر میں سرکار کی جانب سے تعمیرکئے جانے والے ڈبل بیڈروم مکان کے حصول میں دلالوں کو لاکھوں روپئے دے کر در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں ۔ شہر حیدرآباد میں ہزاروں خاندان روزی روٹی کی تلاش میں آکر آباد ہیں جو ماہانہ ہزاروں روپئے کرایہ ادا کر کے بھی مکانداروں کے ظلم کے شکار ہیں اور اس ظلم سے اتنا زیادہ اکتا رہے ہیں کہ انہیں خود ان کی زندگی پر افسوس اور تکلیف ہورہی ہے اور ایسے پریشان کن حالات میں بہ آسانی دلالوں کے جال میں پھنستے جارہے ہیں اور حکومت نے جیسے ہی ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے درخواستیں قبول کرنے کا اعلان کیا تو لاکھوں بے گھر افراد نے درخواستیں داخل کی ہیں اور صرف ضلع حیدرآباد کی حدود میں ہی ڈبل بیڈروم مکانات کیلئے 3.5 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور اب دھوکہ باز خود کو ریونیو تعمیر امکنہ کے افسران ظاہر کرتے ہوئے غریب عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دونوں شہروں 1200 تا 1300 افراد دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں اور دھوکہ باز نقلی دستاویزات حوالے کررہے ہیں اور ان دستاویزات پر آر ڈی او ، پراجکٹ ڈائرکٹر ہاؤزنگ کے افسران کی دستخطیں وغیرہ موجود نہیں ہیں ۔ طویل عرصہ گذر جانے کے باو جود گھر نہ ملنے کی وجہ سے ایک خاتون جو 50ہزار روپئے دے کر دھوکہ دہی کیا شکار ہوئی تھی آر ڈی او سے رجوع کیا اور آر ڈی او نے تحقیقات کے بعد پتہ چلایا کہ دلال دھوکہ دہی میں ملوث ہورہے ہیں اور آر ڈی اونے اس معاملہ سے پولیس کے اعلیٰ افسران کو اطلاع دی ہے اور ان کے کہنے پر دھوکہ دہی کے شکار افراد نے پولیس اسٹیشن ایس آر نگر میں شکایتیں درج کروائی ہیں اور یہاں یہ بات غور طلب ہیکہ دھوکہ دہی کے شکار افراد کا کہنا ہے کہ دلال صرف پردہ سیمیںپر نظر آنے والے ہیں ، دراصل پردے کے پیچھے ریونیو ، ہاؤزنگ ڈپارٹمنٹ میں کام کرنے والے چھپے ہوئے ہیں کیونکہ ماضی میں بھی ان شعبوں میں کام کرنے والے آؤٹ سورسنگ ملازمین نے درخواست گزاروں سے ایسی ڈیل کرنے کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں اور انہوں نے گھروں کی منظوری کے نام پر 10تا 20ہزار روپئے بھی غریبوں سے وصول کئے ہیں ۔ یہاں تک کہ بغرض ریونیو منڈلس میں مقامی قائدین کو کمیشن کا لالچ دے کر بھی درخواست گذاروں سے پیسے حاصل کئے ہیں اور حالیہ پیش آنے والے واقعات میں شک کی سوئی ملازمین کے اطراف ہی گھوم رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق بھاری مقدار میں دھوکہ دہی کے ذریعہ پیسہ وصولی کے واقعات کی ریونیو اور پولیس افسران کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہے ۔