غریبوں کو 3 ایکر اراضی کی فراہمی میں کے سی آر حکومت ناکام

   

Ferty9 Clinic

نیا ریونیو قانون اسمبلی میں پیش کیا جائے، کودنڈا ریڈی کا مطالبہ

حیدرآباد۔/29 فبروری، ( سیاست نیوز) نائب صدر نشین آل انڈیا کسان کانگریس ایم کودنڈا ریڈی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نیا ریونیو قانون اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نئی قانون سازی کی گئی تو کانگریس تعاون کیلئے تیار ہے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کودنڈا ریڈی نے کہا کہ حکومت غریبوں سے اراضیات چھین کر ہراج کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن کسانوں کی حالت اور ابتر ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے زرعی شعبہ کے بجٹ میں کمی کردی ہے۔ جب بھی کسانوں کو فصلوں میں نقصان ہو اس کی پابجائی دونوں حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ فصل بیمہ اسکیم کے نام پر خانگی کمپنیوں نے کسانوں سے لاکھوں روپئے وصول کرلئے۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ کسانوں پر زائد بوجھ عائد کرتے ہوئے زرعی آلات پر جی ایس ٹی عائد کیا گیا۔ کے سی آر نے قرض معافی کے تحت 32 ہزار کروڑ کا نشانہ مقرر کیا تھا بعد میں اسے 17 ہزار کروڑ کردیا گیا۔ 6 اقساط میں معافی کے سبب کسانوں کو سود ادا کرنا پڑا۔ ڈسمبر 2018 انتخابات میں دوبارہ قرض معافی کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک قرض معاف نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ رعیتو بندھو اسکیم پر عمل آوری روک دی گئی۔ 10 لاکھ کسان پٹہ دار پاس بک سے محروم ہیں۔ پٹہ دار پاس بک نہ ہونے کے سبب کسان بینک سے قرض اور رعیتو بندھو اسکیم کی رقومات سے محروم ہیں۔ کودنڈا ریڈی نے حکومت کی جانب سے اراضیات حاصل کرکے فروخت کرنے کے فیصلہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں اور غریبوں کی اراضیات کو سرکاری لیبل لگاکر چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ غریبوں کو 3 ایکر اراضی کا وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا ۔ کودنڈا ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی کسانوں کے ساتھ ناانصافی پر خاموش نہیں رہے گی۔