آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت 5 لاکھ کا مفت علاج، تلنگانہ حکومت کا ڈھائی سال بعد فیصلہ
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے ڈھائی سال کے وقفہ کے بعد آخرکار مرکزی حکومت کی آیوش مان بھارت اسکیم پر ریاست میں عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے ۔ آروگیہ شری کی طرز پر آیوش مان بھارت اسکیم کے تحت عوام کو مفت علاج کی سہولت فراہم ہوگی۔ مرکز نے ستمبر 2018 ء کو اسکیم کا آغاز کیا تھا لیکن بعض ریاستوں بشمول تلنگانہ نے اسکیم کی مخالفت کی ۔ تلنگانہ نے کہا تھا کہ آیوش مان بھارت اسکیم سے بہتر تلنگانہ کی آروگیہ شری اسکیم ہے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اسمبلی میں مرکزی اسکیم کو مسترد کردیا تھا ۔ تاہم مختلف گوشوں سے دباؤ کے بعد حکومت نے مرکزی اسکیم پر عمل آوری کا فیصلہ کیا ہے۔ اسکیم پر عمل آوری کیلئے ریاستی محکمہ صحت اور نیشنل ہیلت اتھاریٹی کے درمیان یادداشت مفاہمت پر دستخط ہوئے ۔ حکومت نے ریاست میں آیوشمان بھارت اسکیم کے گائیڈلائینس کو قطعیت دی ہے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق طبی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ پرنسپل سکریٹری ہیلت ایس اے ایم رضوی نے آروگیہ شری ہیلت کیر ٹرسٹ کے سی ای او کو ہدایت دی ہے کہ ریاست میں آروگیہ شری کے ساتھ مرکزی اسکیم پر عمل کریں۔ واضح رہے کہ بی جے پی کی جانب سے تلنگانہ میں مرکزی اسکیم پر عمل آوری کیلئے مسلسل دباؤ بنایا جارہا تھا ۔ وزیراعظم کے ساتھ ڈسمبر 2020 میں ویڈیو کانفرنس کے دوران چیف سکریٹری سومیش کمار نے وزیراعظم کو بتایا کہ تلنگانہ حکومت آیوشمان بھارت پر عمل آوری کیلئے تیار ہے۔ آروگیہ شری کے تحت 949 مختلف علاج کی سہولت حاصل ہے جس کے لئے ہر خاندان کو دو لاکھ تا 13 لاکھ کا انشورنس فراہم کیا جاتا ہے جبکہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت پانچ لاکھ روپئے تک کا علاج مفت حاصل ہوگا۔