غریب خاتون کی محنت کی کمائی بینک سے غائب

,

   

خاتون انصاف کی منتظر ، معذور شوہر اور چھ لڑکیوں کی ذمہ داریاں نبھانے بے یار و مددگار
حیدرآباد :۔ معذور شوہر کی دیکھ بحال اور لڑکیوں کی پرورش کے لیے کپڑوں کی سلوائی اور محنت مزدوری کرتے ہوئے بینک میں پیسہ جمع کرنے والی خاتون آج سڑک پر آگئی ۔ اپنی کمائی سے بچت کردہ ماہانہ ہزار دو ہزار روپئے جمع کرتے ہوئے پائی پائی کو جوڑنے والی نسیم بیگم کے ایک لاکھ 35 ہزار روپئے اچانک غائب ہوگئے ۔ یہ رقم ان کے مکان سے چوری نہیں ہوئی اور نہ ہی ان کا بٹوا کسی نے چورالیا اور نہ ہی ان کی رقم سے بھرے بیاگ کو کسی نے چھین لیا بلکہ بینک کے کھاتے سے ان کی رقم غائب ہوگئی ۔ نسیم بیگم نہ ہی اے ٹی ایم کا استعمال کرتی ہیں اور نہ ہی اس غریب مزدور خاتون کو آن لائن اسمارٹ فون سے خرید و فروخت کا ذوق ہے ۔ بینک میں رقم جمع کرنے کے بعد پاس بک کو اپنی الماری کے لاکر میں رکھ دیتی ہیں جو آج اپنی محنت کی کمائی کے غائب ہوجانے پر سوال کررہی ہیں ۔ پرانے شہر کے علاقہ محمد نگر بنڈلہ گوڑہ سے تعلق رکھنے والی نسیم بیگم گذشتہ 4 ماہ سے پریشان ہیں ۔ نسیم بیگم بالا پور اور چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن کے چکر کاٹ کر تھک چکی ہیں ۔ اگر کوئی اجنبی فون کال بھی انہیں حاصل ہوتا ہے تو وہ اس امید سے فون ریسو کرتی ہیں کہ کہیں ان کی رقم کی کوئی اطلاع تو انہیں حاصل ہوگی ۔ نسیم بیگم کا کھاتہ پہاڑی شریف کی انڈین بینک شاخ میں موجود ہے لاک ڈاون میں کمائی نہ ہونے پر گھر کے گذر بسر کے لیے جب خاتون بینک سے رقم نکالنے پہونچی تو انہیں کئی مرتبہ بھیڑ اور بینک ملازمین میں اپنی مصروفیت کا اظہار کرتے ہوئے واپس لوٹا دیا ۔ ایک دن جب خاتون کے اسرار پر انہیں بتایا گیا کہ ان کے بینک کھاتے میں ایک بھی روپیہ نہیں ہے تو خاتون پر آسمان ٹوٹ پڑا ۔ شوہر کی معذوری کے سبب 6 لڑکیوں کی شادی کے لیے جی جان کو مار کر پائی پائی جمع کرنے والی خاتون کی رقم غائب ہے ۔ نسیم بیگم نے بتایا کہ وہ گھر میں کپڑوں کی سلوائی کرتی ہیں اور گھروں میں کام کاج کرتی ہیں ۔ جب سلوائی میں کمائی اچھی ہوجاتی ہے تو وہ صبر و شکر کے ساتھ پیسوں کو بینک میں جمع کرتی ہیں ان کے شوہر حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد معذوری کے سبب بے روزگار ہیں ۔ اور گھر کے اخراجات کی پابجائی کے علاوہ لڑکیوں کے مستقبل کے لیے انہی کو کوشش کرنا پڑتا ہے ۔ آج اس خاتون کی نہ کوئی شکایت کی سماعت کرنے والا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی اقدام کرنے والا ہے ۔ خاتون نے تنگ آکر ڈی سی پی ساوتھ سے 5 اگست کے دن شکایت کردی اور انصاف کی منتظر ہے ۔ نسیم بیگم کے ساتھ چندرائن گٹہ اور بالا پور پولیس کے علاوہ اس بینک نے بھی معائندانہ رویہ اختیار کیا جس میں وہ اپنی جمع پونجی رکھا کرتی تھیں ان کی محنت کی کمائی کو جمع کرنے کا حساب تو خاتون کے پاس موجود ہے لیکن رقم کے غائب ہونے کا بینک ملازمین کوئی جواب نہیں دے پا رہے ہیں ۔ غریب عوام کے ساتھ بینکس کا اسطرح کا رویہ بینکس پر سے اعتماد کو ختم کرنے کا موجب بنتا جارہا ہے ۔ نسیم بیگم نے بالا پور پولیس کی عدم کارروائی پر ڈی سی پی ایل بی نگر سے بھی رجوع ہو کر فریاد سنائی تھی تاہم اس خاتون سے تاحال انصاف نہیں ملا تو دوسری طرف معذور شوہر کی دیکھ بھال اور چھ لڑکیوں کی پرورش کیلئے ان کے اوپر ایک پہاڑ ٹوٹ پڑرہا ہے ۔ خواتین کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود و آزادی نسواں کے بلند بانگ و مثالی اقدامات کی دعویدار حکومت اور اعلیٰ عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ نسیم بیگم سے انصاف کرتے ہوئے اپنی دعوؤں کو یقینی بنائیں ۔۔