فی کس 1500 روپئے نقد کی اسکیم پر تعطل، چاول کی تقسیم کی تیاریاں جاری
حیدرآباد۔/26 مئی، ( سیاست نیوز) لاک ڈاؤن سے متاثرہ غریب خاندانوں اور روزگار سے محروم افراد کو حکومت کی جانب سے تیسرے مرحلہ میں مفت چاول کی تقسیم کی تیاریاں جاری ہیں۔ گزشتہ دو ماہ حکومت کی جانب سے سفید راشن کارڈز پر ہر شخص کو 12کیلو چاول سربراہ کیا گیا تھا اس کے علاوہ ایک خاندان کیلئے 1500 روپئے کی امداد فراہم کی گئی تھی۔ حکومت نے ابتداء میں چاول حاصل کرنے والوں کو ہی رقمی امداد دینے کا فیصلہ کیا بعد میں ہائی کورٹ کی ہدایت پر چاول حاصل نہ کرنے والے خاندانوں کو بھی مالی امداد دی گئی جس سے تقریباً 7 لاکھ سے زائد خاندانوں کو فائدہ ہوا۔ لاک ڈاؤن میں غریب خاندانوں کی پریشانیوں کو دیکھتے ہوئے حکومت اپریل اور مئی کی طرح جون میں بھی چاول سربراہ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاہم 1500 روپئے کی مالی امداد کے بارے میں قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ چیف منسٹر عہدیداروں کے ساتھ جائزہ اجلاس میں اس بارے میں فیصلہ کرسکتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے بھی پانچ کیلو چاول اور 500 روپئے کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ہر راشن کارڈ پر موجود افراد خاندان کے حساب سے ہر شخص کو 12 کیلو چاول کی فراہمی نے غریب خاندانوں کو راحت فراہم کی ہے۔ اگر کسی کارڈ پر پانچ نام ہیں تو انہیں 60 کیلو چاول سربراہ کیا گیا جو دو ماہ کیلئے کافی ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ سے بیشتر غریب خاندانوں میں چاول کا مسئلہ حل ہوچکا ہے۔ مرکز اور تلنگانہ حکومت یہ اعلان بھی کرچکے ہیں کہ مقامی غریب افراد کے علاوہ ملک کے کسی بھی حصے سے تعلق رکھنے والے مائیگرنٹ ورکرس کے پاس ایک سفید راشن کارڈ، آدھار یا کوئی دوسرا دستاویزی ثبوت نہ ہونے کے باوجود اُن کو امداد کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔