تل ابیب ۔ 2 جنوری (ایجنسیز) اسرائیلی وزیر ثقافت اور حکمران لیکود پارٹی کے رکن مکی زوہر نے ’اشتعال انگیز‘ قرار دیئے گئے بیانات میں غزہ کے بارے میں کہاکہ یہ اسرائیل کا حصہ ہے اور اس سیکٹر میں فلسطینیوں کی حیثیت ’مہمان‘ کی ہے جنہیں اسرائیلی حکام نے وہاں عارضی طور پر رہنے کی اجازت دی ہے۔جمعہ کو ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق انہوں نے اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کو ایک انٹرویو میں مزید کہا کہ ہم انہیں صرف ایک مخصوص وقت کیلئے وہاں مہمان کے طور پر رہنے کی اجازت دیتے ہیں لیکن غزہ ہمارا ہے۔انہوں نے مغربی کنارے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی دعویٰ کیا کہ یہودیۃ و سامریۃ کا تعلق بھی اسرائیل سے ہے اور مزید کہا کہ ہم اپنی زمین پر قابض نہیں ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کیلئے زور دے رہا ہے جس میں تباہ شدہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے انخلاء اور تعمیرِ نو کے آغاز کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسی دوران اسرائیل مغربی کنارے میں مزید آبادیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اگست میں اسرائیلی سول انتظامیہ نے یروشلم کے مشرق میں 12 مربع کلومیٹر کے رقبے پر ایک نئے ’’ای ون‘‘ منصوبے کی منظوری دی۔ فیصلے کے متن کے مطابق یہ منصوبہ معالے عدومیم جس کے بعض حصے العیزریہ قصبے کی زمینوں پر تعمیر کیے گئے تھے، کو یروشلم شہر سے ملا دے گا۔ یوں مشرقی یروشلم مؤثر طریقے سے فلسطینی علاقوں سے الگ ہو جائے گا۔ اس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ اور اس کا اپنے ملک سے الحاق کر لیا تھا۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسرائیلی آبادیاں بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی ہیں خواہ وہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ ہوں یا غیر مجاز۔ اسرائیلی سرکاری ذرائع کے مطابق مشرقی یروشلم میں 370,000 فلسطینی اور 230,000 سے زیادہ اسرائیلی آباد ہیں۔