اسرائیلی فوج کیایگور تودوران نے غزہ پٹی میں صرف 12 گھنٹے ہی گزارے تھے جب ایک میزائل ان کے ٹینک پر جا گرا جس کے نتیجے میں وہ اس طرح زخمی ہوئے کہ ان کی زندگی ہی بدل کر رہ گئی۔ وہ خود بتاتے ہیں کہ ٹینک کے اندر وہ اپنے زخم کی نوعیت دیکھ کر سمجھ گئے تھے کہ وہ اپنی ٹانگ سے محروم ہو جائیں گے۔ لیکن سوال تو یہ تھا کہ کس حد تک ڈاکٹر ان کی ٹانگ کو بچا پائیں گے۔ تودوران اب ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ تودوران کی عمر 27 سال ہے اور وہ ریزرو فوجیوں کے دستے سے ہیں۔ ان فوجیوں نے 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد رضاکارانہ طور پر اپنے فرائض انجام دیے۔ ان کی دائیں ٹانگ کولہے کے نیچے سے کاٹ دی گئی ہے لیکن انہوں نے ایک مثبت رویہ برقرار رکھا ہے۔ لیکن وہ یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ الیکٹریشن بننے کی ان کی امیدیں پوری نہیں ہو پائیں گی۔ تودوران زخمی اسرائیلی جنگجوؤں کی ایک بڑی تعداد میں شامل ہیں جو اسرائیلی معاشرے کا ایک ایسا طبقہ ہے جسے شدید ٹراما یا صدمہ کا سامنا رہا ہے اور جس کی جدوجہد جنگ کی وہ قیمت ہے جو اس وقت تو نظر نہیں آتی لیکن آنے والے کئی برسوں تک اس کی شدت کو محسوس کیا جائے گا۔ انسانی حقوق کے علمبردار زخمیوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے فکر مند ہیں کہ ملک ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔