نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے جمعرات کے روز بند دروازوں کے اجلاس کے دوران رابطہ کار برائے امدادی امور نے کہا غزہ کی جنگ زدہ پٹی پر زمینی راستوں سے امدادی سرگرمیاں ضروری ہیں۔ زمین سے ہونے والی امدادی سرگرمی کا فضائی یا بحری کارروائی کا متبادل نہیں ہو سکتی ہیں۔سگرید کاگ نے سلامتی کونسل کے نام اپنے پیغام میں کہا بین الاقوامی برادری کو لازمی طور پر منڈیوں کے منہ غزہ کی طرف کھول دینے چاہیں اور غزہ کے لئے اشیا کی ترسیل کے راستے کھول دینے چاہئیں۔ نیز نجی شعبے کو بھی اس سلسلے میں توانا کرنا چاہئے تاکہ غزہ میں زیادہ اشیا پہنچ سکیں اور لوگوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔انہوں نے مزید کہا کثیر جہتی سپلائی لائن بنانے کی افادیت ہے مگر زمین سے ترسیل کی اہمیت اپنی جگہ زیادہ ہے۔ زمینی راستوں سے سپلائی آسان بھی ہے اور تیز تربن ذریعہ بھی ہے۔اس کے سستے ہونے کی وجہ سے اس کے ذریعے بھاری مقدار میں امدادی سامان کی منتقلی کی جا سکتی ہے۔اقوام متحدہ کی رابطہ کار نے یہ پیغام امریکہ کی طرف سے اس اعلان کے بعد دیا ہے کہ امریکہ فضائی اور بحری راستے سے غزہ کے لئے امدادی سرگرمیاں کرے گا۔ کاگ نے خیر مقدم کیا کہ فضائی راستوں سے امدادی سامان کا گرایا جانا مدد کی علامت تو ہو سکتا ہے مگر کافی مدد نہیں ہو سکتا۔