تل ابیب: مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے نگران جنرل مایکل ایرک کوریلا تل ابیب کا دورہ کر رہے ہیں۔ اعلیٰ ترین امریکی فوجی عہدیدار غزہ پر متوقع اسرائیلی حملے اور امریکی صدر جو بائیڈن کے تل ابیب دورہ سے ایک دن پہلے آمد کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اپنے غیر علانیہ دورے سے پہلے منگل کو رائٹرز کے ذریعہ جاری کروائے گئے ایک بیان میں جنرل مائیکل کا کہنا تھا کہ وہ حماس کے خلاف تیزی اختیار کرتی ہوئے جنگ میں اسرائیلی ضروریات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تاکہ ان کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی عہدیداروں سے اس معاملے پر بھی تبادلہ خیال کریں گے کہ جنگ کا دائرہ دوسرے علاقوں تک پھیلنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے؟اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے بتایا کہ گیرالڈ فورڈ بحری بیڑے کے علاوہ ’’باتان‘‘ بحری بیڑا بھی اسرائیلی ساحل کی سمت بڑھ رہا ہے۔ اس بیڑے پر امریکی میرینز کے مہماتی یونٹس کے دو ہزار اہلکار بھی موجود ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ باتان بیڑے پر سوار امریکی میرینز کو کوئی مخصوص ذمہ داری تفویض نہیں کی گئی، تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ وہ انخلا کے منصوبے میں اہم کردار ادا کریں گے۔