غزہ سٹی: غزہ پٹی پر گذشتہ ماہ سے جاری اسرائیلی حملوں میں شدت آتی جا رہی ہے، اس کے تباہ حال علاقے ایک بار پھر فضائی بم باری کی زد میں ہیں۔آج پیر کے روزالعربیہ نیوز کے نمائندے نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس میں ایک کیمپ کو نشانہ بنایا، جہاں جنگ کے سبب بے گھر ہونے والے افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ اس حملے میں پانچ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے رفح کے شمالی علاقوں پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کی، جب کہ شمالی غزہ کے جبالیا کیمپ پر بھی متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ، اسرائیلی جنگی کشتیاں النصیرات کیمپ کے شمال مغربی علاقوں پر بھی حملے کر رہی ہیں، جو کہ وسطی غزہ میں واقع ہے۔ان فضائی حملوں کے دوران غزہ کے مکینوں کی مشکلات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ سرحدی راستے بند ہونے اور امدادی سامان کی عدم رسائی نے صورت حال کو مزید ابتر بنا دیا ہے، اور بازاروں میں خوراک کی شدید کمی نے غذائی قلت کو جنم دیا ہے۔ اس سے لوگوں میں غذائی کمی اور کمزوری عام ہوتی جا رہی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق دو لاکھ سے زیادہ زخمیوں کو فوری طبی امداد کی ضرورت ہے، مگر ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت درپیش ہے۔اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی بحران انتہائی حد تک بڑھ چکا ہے۔ ادارے کے مطابق تقریباً 20 لاکھ افراد جن میں اکثریت بے گھر افراد کی ہے، بغیر کسی آمدنی کے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ان کا مکمل انحصار امدادی سامان پر ہیادارے نے مزید کہا کہ اسے خوراک کے ذخائر میں خطرناک حد تک کمی اور بنیادی ضروریات کی قلت پر گہری تشویش ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے 18 مارچ کو جنگ بندی کے معاہدے کو ختم کرتے ہوئے غزہ پر دوبارہ جنگ مسلط کر دی تھی۔ اس سے قبل جنگ بندی کا معاہدہ 19 جنوری کو نافذ العمل ہوا تھا۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس پر فوجی دباؤ بڑھانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حماس نئی تجاویز کو تسلیم نہیں کرتی اور تمام اسرائیلی قیدیوں کو رہا نہیں کرتی، دباؤ جاری رہے گا۔اسی طرح، وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے بھی کہا ہے کہ جب تک تمام قیدی رہا نہیں کیے جاتے، غزہ میں کسی بھی قسم کی انسانی امداد داخل نہیں ہونے دی جائے گی۔