یروشلم: غزہ میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم ’’اسلامی جہاد‘‘ کے بعض عناصر کی جانب سے ایک مسجد پر دھاوا بولنے کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے۔ اگرچہ تنظیم نے گذشتہ روز اپنے ایک بیان میں اسے انفرادی واقعہ قرار دیا تھا تاہم واقعہ نے غزہ کی آبادی کو فلسطینی گروپوں کے اختلافات کے حوالے سے چراغ پا کر دیا ہے۔ یہ اختلافات سنگین نوعیت اختیار کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے الاہرام اخبار کے ایڈیٹر انچیف اشرف ابو الہول نے العربیہ کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ اسلامی جہاد کے 3 ارکان کی جانب سے تنظیم کے دیگر ارکان پر حملہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔گذشتہ دو روز کے دوران سماجی ذرائع ابلاغ پر کثیر گردشی وڈیو میں مسلح افراد کو مسجد ’’الانصار‘‘ پر دھاوا بولتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ مسلح افراد نے نمازیوں کو مارا پیٹا اور انہیں اغوا کر لیا۔ اس واقعہ نے وسیع پیمانے پر غم و غصے اور تنقید کی صورتحال پیدا کر دی۔مغوی افراد کے ایک بھائی نے فیس بک پر براہ راست گفتگو میں اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کی قیادت پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے مذکورہ شخص کے بھائیوں کو اغوا کیا۔اسی طرح اس نوجوان نے جو خود بھی اسلامی جہاد کا رکن ہے حملہ آوروں کو قتل کرنے اور ان کے گھروں کو راکٹوں کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔
