غزہ معاہدہ کا دوسرا مرحلہ مصر میں تفصیلی بات چیت کا آغاز

   

قاہرہ: حماس تنظیم نے غزہ میں فائر بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کیلئے مذاکرات شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کر دیا جس کے بعد اسرائیل، قطر اور امریکہ کے نمائندوں نے قاہرہ میں تفصیلی بات چیت کا آغاز کر دیا ہے۔اس سلسلے میں مصری کمیٹی نے جمعرات کو بتایا کہ متعلقہ فریقوں نے فائر بندی معاہدے کے اگلے مراحل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت شروع کر دی ہے۔ اس دوران میں کوشش کی جا رہی ہے کہ متفقہ مفاہمتوں پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔تین مراحل پر مشتمل جنگ بندی معاہدے کا پہلا مرحلہ یکم مارچ بروز ہفتہ اختتام پذیر ہو گا۔معاہدے میں جنگ بندی کے پہلے 42 روز میں حماس کی جانب سے 33 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی مذکورہ ہے جس کے مقابل سیکڑوں فلسطینی اسیروں کو آزاد کیا جانا مقرر تھا۔ فریقین کے بیچ تبادلے کا یہ سلسلہ دوسرے مرحلے میں مکمل ہو گا۔ اس کے ساتھ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی فوج کا انخلا بھی عمل میں آئے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نمائندے نے زور دیا ہے کہ غزہ کی پٹی یا مغربی کنارے میں حماس کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں ایک صحافی کی جانب سے غزہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے سے متعلق سوال کے جواب میں حماس کو شرپسندوں کا گروپ قرار دیا تھا۔چہارشنبہ کی شام وائٹ ہاؤس میں اپنی حکومت کے پہلے اجلاس کے دوران میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے کا مستقبل اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔