غزہ ۔ 28 نومبر (ایجنسیز) حماس نے رفح میں محصور اپنے عسکریت پسندوں کے حوالے سے اسرائیلی اقدامات کو غزہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ’’ العربیہ‘‘ اور ’’ الحدث ‘‘ کو دیے گئے خصوصی بیانات میں حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ تحریک نے غزہ معاہدے کے پہلے مرحلے کے تمام تقاضوں پر مکمل طور پر عمل کیا ہے۔ حازم نے زور دیا کہ اسرائیل ہی دوسرے مرحلے میں داخلے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔حازم قاسم نے واضح کیا کہ حماس کے وفد کا قاہرہ کا دورہ دوسرے مرحلے میں منتقلی اور اس کی تیاری شروع کرنے کے لیے تحریک کی سنجیدگی کی تصدیق کرتا ہے۔ تحریک حماس کی جانب سے اسلحہ حوالے کرنے سے متعلق قاسم نے کہا کہ اس معاملے کو فلسطینی قومی مذاکرات اور داخلی مشاورت کے تحت حل کیا جانا چاہیے۔اسرائیلی اخبار ’’ یدیعوت احرونوت ‘‘ نے کہا ہے کہ امریکہ کا صبر اسرائیل کے حوالے سے ختم ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ وہاں کے رہنما غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے دوسرے مرحلے کے آغاز پر منقسم ہیں۔ اخبار نے مزید کہا کہ اسرائیلی حکام غزہ میں یرغمالیوں کی باقی ماندہ لاشوں یعنی ایک اسرائیلی فوجی اور ایک تھائی کارکن کی لاش کی واپسی کے بغیر معاہدے کے دوسرے مرحلے میں داخل نہ ہونے پر بضد ہیں۔ اخبار نے یہ بھی کہا کہ اب بھی رکاوٹیں موجود ہیں جن میں رفح کی سرنگوں میں محصور حماس کے ارکان کا معاملہ ختم نہ ہونا شامل ہے۔
اسرائیلی چینل 14 نے انکشاف کیا کہ امریکیوں کے مقرر کردہ ٹائم ٹیبل کے مطابق بین الاقوامی استحکام فورس کے جنوری کے وسط میں غزہ کی پٹی کے رفح میں پہنچنے کی توقع ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی نشریاتی ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج ملبے کو ہٹانے کے لیے رفح میں بھاری ساز و سامان داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے نے واضح کیا کہ غزہ میں بھاری ساز و سامان داخل کرنا امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کی تیاری ہے۔