تل ابیب : اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کو تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی میں 132 ”افراد حراست میں” ہیں، جن میں سے 112 کے زندہ اور 20 کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مارے جا چکے ہیں۔امریکی ٹی وی ’CNN‘ نے نیتن یاہو کے دفتر کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیل مرنے والوں کو ”اب بھی قیدی” سمجھتا ہے۔وزیراعظم ہاؤس نے مزید کہا کہ حراست میں لیے گئے افراد میں 11 غیر ملکی شامل ہیں جن میں آٹھ کا تعلق تھائی لینڈ، ایک نیپال سے، ایک تنزانیہ سے، اور ایک کے پاس فرانس اور میکسیکو دونوں کی شہریت ہے۔دفتر نے یہ بتایا کہ 110 افراد کو زندہ رہا کیا گیا جن میں 86 اسرائیلی اور 24 غیر ملکی شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ زیر حراست افراد مارے گئے اور اسرائیلی فوج ان کے ٹھکانوں کا تعین کرنے کے بعد ان کی لاشیں نکالنے اور انہیں بازیاب کرنے میں کامیاب رہی۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی میں ایک آپریشن کے دوران دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں برآمد کی ہیں جنہیں غزہ میں قید رکھا گیا تھا۔فوج نے کہا کہ ”غزہ میں ایک آپریشن کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے دو قیدیوں 19 سالہ نک بیزر اور رون شرمین کی لاشیں برآمد کیں اور انہیں اسرائیل منتقل کر دیا گیا ہے۔