غزہ : غزہ کے نصیرات کیمپ، خان یونس اور رفح پر اسرائیلی بمباری سے 15 فلسطینی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق مغربی کنارے کے شہر جنین میں بھی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں شہید حاملہ خاتون کی بعد از وفات پیدا ہونے والی بچی بھی چل بسی۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق 7 اکتوبر سے جاری اسرائیلی بربریت کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 34 ہزار 300 ہوگئی ہے۔ دوسری جانب غزہ میں حماس کے نائب سربراہ خلیل الحیا نے کہا ہے کہ اسرائیل کاجنگ بندی مذاکرات سے متعلق جواب موصول ہوا ہے۔ خلیل الحیا کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے موصول جواب کا جائزہ لے رہے ہیں۔
غزہ میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 34 ہزار 356 ہو گئی
غزہ: غزہ پٹی میں جاری اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 34,356 ہو گئی ہے ۔حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں مزید 51 فلسطینی شہید اور 75 زخمی ہوئے ۔ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں کی کل تعداد 34,356 اور زخمیوں کی تعداد 77,368 تک پہنچ گئی ہے ۔دوسری جانب اسرائیلی حکام نے خدشہ ظاہر کیا کہ غزہ کے رفح میں ممکنہ زمینی کارروائی اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی قانونی کارروائی کا باعث بن سکتی ہے ۔اسرائیل کے پبلک کان ریڈیو نے اطلاع دی ہے کہ اسرائیل دی ہیگ میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے ایک اور خطرے کی تیاری کر رہا ہے جس میں سینئر اسرائیلی حکام کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے کا امکان ہے ۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے رفح میں زمینی کارروائی کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے تاہم فوج کو ابھی تک پیش قدمی کی اجازت نہیں ملی ہے ۔اسرائیلی جنگی کابینہ کے اجلاس کے بعد جنوبی غزہ شہر پر منصوبہ بند حملے سے قبل اسرائیل کی جانب سے رفح سے شہریوں کو جلد نکالنے کی توقع ہے ۔قابل ذکر ہے کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے دوران غزہ کے شمالی اور وسطی علاقوں سے بے گھر ہونے کے بعد رفح 10.4 لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی آخری پناہ گاہ بن چکا ہے ۔
اسرائیلی بمباری‘ فلسطینی شاعر کی بیٹی خاندان سمیت شہید
غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے معروف فلسطینی شاعر شہید ڈاکٹر رفعت العرعیر کی بیٹی شیماء العرعیر بھی اپنے دو بچوں اور شوہر سمیت شہید ہوگئیں۔چار ماہ قبل ان کے والد بھی اسی طرح اسرائیلی فضائی حملے میں شہید ہوگئے تھے۔ شیماء العرعیر کو الرمل کلینک کے قریب ان کے اپارٹمنٹ میں نشانہ بنایا گیا۔ ان کے ساتھ ان کے شوہر انجینئر محمد عبدالعزیز صیام اور 2 بچے بھی شہید ہوئے جن میں 2 ماہ کا نوزائیدہ بھی شامل ہے۔ میڈیا کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے پناہ گزینوں کے گھر کو نشانہ بنایا۔ڈاکٹررفعت العرعیر مرکزاطلاعات فلسطین میں بھی کام کرتے تھے۔ وہ غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں انگریزی کے پروفیسر تھے۔انہوں نے اکتوبر میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس شمالی غزہ میں رہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیونکہ کوئی محفوظ مقام ہی نہیں رہا اور فرار کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر کچھ ہی روز بعد وہ اپنے بھائی، بہن اور چار بچوں کے ساتھ غزہ پر اسرائیلی بمباری میں جام شہادت نوش کرگئے تھے۔
