غزہ میں اسرائیل نسل کشی کا مرتکب نہیں ہوا: جان کربی

   

l امریکہ ہمیشہ کی طرح اسرائیل کا ساتھ دے گا l بین الاقوامی عدالت میں جاری مقدمہ پر قومی سلامتی کے ترجمان کا ردعمل

واشنگٹن: امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات بے بنیاد ہیں اور جنوبی افریقہ کا مقدمہ نقصان دہ ہے۔جان کربی نے العربیہ سے خصوصی گفتگو کے دوران یہ بات کی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکہ حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی پشت پر پہلے کی طرح کھڑا رہے گا۔جان کربی جنوبی افریقہ کی طرف سے بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف دائر کردہ مقدمہ کے بارے میں بات کر رہے تھے۔ ہرگز ہرگز ایسی کوئی علامت سامنے نہیں آئی ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔واضح رہے جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت سے یہ بھی اپیل کی ہے کہ اسرائیل کو فوری جنگ بندی کیلئے کہا جائے۔ جنگ کے دوران 23000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جن میں نصف کے قریب بچے شامل ہیں۔بین الاقوامی عدالت انصاف نے جمعرات کے روز اس اہم مقدمے کی پہلی بار سماعت کی ہے۔ یہ سماعت جمعہ کے روز 12 جنوری کو بھی جاری رہے گی۔ سماعت کا پہلا دن جنوبی افریقہ کے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دینے کا دن تھا جبکہ جمعہ کے روز اسرائیل کو اپنا موقف دینے کا موقع دیا جائے گا۔اس گفتگو کے دوران جان کربی نے حماس پر الزام عائد کیا کہ ‘اس کے سربراہ یحیٰی السنوار نے جنگ کا آغاز کیا۔ اس لیے تمام فلسطینیوں کو السنوار کو سات اکتوبر کی جنگ کا ذمہ دار قرار دینا چاہیے، کہ السنوار نے پہلے سے موجود جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ‘امریکی ترجمان نے یہ بھی کہا ‘ امریکہ اسرائیلی جنگ کی حمایت جاری رکھے گا کیونکہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔’ ان کا امریکہ کے حوالے سے کہنا تھا ‘امریکہ غزہ میں فلسطینیوں کو انسانی بنیادوں پر امدادی سامان پہنچانے کیلئے اپنے مشرق وسطیٰ کے شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتا ہے اور بات چیت میں مصروف ہے۔’غزہ کی جنگ کے بارے میں جان کربی نے کہا ‘امریکہ کی کوشش ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران شہری جانی نقصان کو کم کیا جائے اور غزہ سے باہر تک جنگ کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ ‘ان کا کہنا تھا کہ اب بعد از جنگ کے حالات کیلئے بات چیت کا بہترین وقت ہے، یہی وقت ہے جب بعد از جنگ غزہ میں حکومت سے متعلق امور کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ‘تاہم انہوں نے کہا ‘ جو بائیڈن انتظامیہ غزہ پر دوبارہ اسرائیلی قبضے کی حمایت نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح ہم فلسطینیوں کی غزہ سے باہر کسی جبری نقل مکانی کی بھی حمایت نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ امریکہ فلسطینیوں کو اپنے غزہ میں گھروں میں محفوظ واپسی کا حق دینے کا حامی ہے۔’جان کربی نے کہا ‘ہم سمجھتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کو بھی نئے سرے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
بلکہ اس چیز کو مسئلہ فلسطین کے اہم حل کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ ‘ایک سوال کے جواب میں جان کربی نے کہا ‘امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اسرائیلی حکام کے ساتھ مکمل سرگرمی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ساتھ رابطے میں ہیں، اسی طرح امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے شراکت داروں کیساتھ پورے طرح رابطے میں ہے۔ ‘