غزہ میں ایندھن اور امداد کیلئے 12 گھنٹے کی جنگ بندی تجویز

   

غزہ پٹی: اسرائیل اور حماس کی ہفتوں سے جاری جنگ میں انسانی بنیادوں پر وقفے کیلئے امریکی اور عرب ثالثوں نے کوششیں تیز کردی ہیں جبکہ امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے بھی لڑائی کچھ وقت کیلئے روکنے کی تجویز دی ہے۔ان سفارتی کوششوں کا مقصد حماس کے زیر انتظام غزہ پر نافذ اسرائیل کی ناکہ بندی میں کمی لانا اور لڑائی میں وقفے کے دوران عام شہریوں تک انسانی ہمدردی سے امداد پہنچانا ہے۔حماس کے 7 اکتوبر کے اسرائیل پر حملے میں 1400 ہلاکتوں کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری سے اے پی کے مطابق فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 9000 سے تجاوز کر چکی ہے۔صدر جو بائیڈن نے چہارشنبہ کی رات کہا تھا کہ ان کے خیال میں اسرائیل اور حماس کی جنگ میں انسانی بنیادوں پر ’’وقفہ‘‘ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بات ایک انتخابی تقریر میں کہی جہاں مظاہرین کی جانب سے جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ بائیڈن نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں وقفہ دینے کی ضرورت ہے۔اسرائیل نے فوری طور پر صدر بائیڈن کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔