نیویارک: اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ خطرناک خوراک کی کمی، وسیع پیمانے پر غذائی قلت اور بیماریوں کا تیزی سے پھیلاؤ ایسے عوامل ہیں جو غزہ کی پٹی میں بچوں کی اموات کی تعداد میں شدید اضافہ کا باعث بن سکتے ہیں۔اسرائیل کی حماس کے خلاف جنگ کو بیس ہفتے گزر چکے ہیں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے کہا کہ محصور فلسطینی علاقوں میں خوراک اور صاف پانی کی ’’بہت کمی‘‘ ہو گئی ہے اور تقریباً تمام چھوٹے بچے متعدی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔یونیسیف کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چیبان نے کہا کہ غزہ قابل روک تھام بچوں کی اموات میں ایک دھماکے کا مشاہدہ کرنے والا ہے، جو بچوں کی اموات کی پہلے سے ہی ناقابل برداشت سطح کو دوگنا کر سکتا ہے۔یونیسیف ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور ورلڈ فوڈ پروگرام کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق غزہ میں پانچ سال سے کم عمر کے کم از کم 90 فیصد بچے ایک یا زیادہ متعدی بیماریوں سے متاثر ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں 70% کو اسہال ہوا تھا، جو کہ 2022 کے مقابلے میں 23 گنا زیادہ ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن میں ہنگامی حالات کے انچارج مائیک ریان نے کہا کہ بھوک اور بیماری ایک مہلک امتزاج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بھوکے، کمزور بچے اور شدید نفسیاتی صدمے میں مبتلا افراد بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ بیمار بچے، خاص طور پر جو اسہال میں مبتلا ہیں، غذائی اجزاء کو اچھی طرح جذب نہیں کرسکتے۔ اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق، شمالی غزہ میں دو سال سے کم عمر کے 15 فیصد سے زیادہ بچے، یا چھ میں سے ایک، شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انسانی امداد سے تقریباً مکمل طور پر محروم ہیں۔اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے خبردار کیا کہ یہ ڈیٹا جنوری میں جمع کیا گیا تھا، اور موجودہ صورتحال مزید سنگین ہونے کا امکان ہے۔