مشرق وسطیٰ کیلئے امریکہ کے خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف کا عزم‘ جامع منصوبہ کی تیاری
واشنگٹن ۔28؍اگست ( ایجنسیز)مشرق وسطیٰ کیلئے امریکا کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وائٹ ہاؤس میں غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال پر منصوبہ بندی کے حوالے سے ’اہم ترین‘ اجلاس کی صدارت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم غزہ میں جنگ کو یقیناً اس سال کے اختتام سے پہلے کسی نہ کسی طریقے سے ضرور ختم کر دیں گے۔میڈیاکو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں صدر کی سربراہی میں ایک بڑا اجلاس ہوا ہے، ہم ایک نہایت جامع منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ بہت سے لوگ دیکھیں گے کہ یہ کتنا مضبوط اور کتنا نیک نیتی پر مبنی ہے اور یہ صدر ٹرمپ کے انسانی ہمدردی کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہم غزہ میں جنگ کو یقیناً اس سال کے اختتام سے پہلے کسی نہ کسی طریقے سے ضرور ختم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔اعلیٰ امریکی عہدیدار کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے چہارشنبہ واشنگٹن میں اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سار کی میزبانی کی جہاں مذاکرات کا محور غزہ تھا۔اسرائیل نے غزہ میں تقریباً 63 ہزار فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے شامل ہیں۔یہ کارروائیاں 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے جواب میں کی گئیں جس میں فلسطینی گروپ حماس نے تقریباً ایک ہزار 200 اسرائیلیوں کو قتل کیا اور لگ بھگ 250 افراد کو یرغمال بنالیا تھا۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل کی فوجی مہم نے غزہ کے علاقے کو تباہ کر دیا ہے جو اب قحط کا سامنا کر رہا ہے۔گزشتہ نومبر میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔اسرائیل، غزہ میں جنگ کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں نسل کشی کے مقدمہ کا بھی سامنا کر رہا ہے۔