نیویارک: سابق امریکی وز یر خارجہ ہلاری کلنٹن نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی ممکن نہیں ہے۔ کوئی بھی جنگ بندی حماس کیلئے تحفہ ثابت ہوگی اور اسے جنگ بندی کی مدت کے دوران اپنے ہتھیاروں کو دوبارہ بنانے کے قابل بنا دے گی۔ہلاری کلنٹن نے یہ تبصرہ جمعہ کو رائس یونیورسٹی کے بیکر انسٹی ٹیوٹ گالا میں پینل ڈسکشن کے دوران کیا۔ ہلاری نے مزید کہا جو لوگ اب جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ حماس کو نہیں سمجھتے۔ یہ ممکن نہیں ہے۔یہ حماس کیلئے ایک ایسا تحفہ ہوگا کیونکہ وہ جنگ بندی کا وقت اپنے ہتھیاروں کی تعمیر نو میں صرف کریں گے۔ اپنی پوزیشنیں مضبوط بنائیں گے تاکہ اسرائیلیوں کے ممکنہ حملے کو روک سکیں۔ہلاری کلنٹن نے یہ تبصرے اس روز کیے جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے غزہ میں انسانی جنگ بندی کے حق میں 122 ووی کی حمایت سے قرار داد منظور کی تھی۔ اس قرار داد کی مخالفت میں 14 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ قرار داد کے مخالفین میں امریکہ بھی شامل تھا۔ہلاری کلنٹن نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں ایندھن سمیت امداد کی اجازت دینا ایک ’’ مخمصہ ‘‘ ہے جس کا ’’ ہاں یا نہیں ‘‘ جواب دینا مشکل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ساری صورتحال کے کئی پہلو ہیں۔